حقیقت اشیا کا بیان

0
55

سازِ ہستی پردۂ الہام ہے
 نغمۂ تارِ نفس پیغام ہے
 تار کیا ہے یار کی آواز ہے
جو نَفَخْتُ فِیْہِ (۲) کا اک راز ہے
بے صدا و بے نوا و بے کلام
دے رہا ہے ذرّہ ذرّہ یہ پیام
پتے پتے سے یہی ہے گفتگو
 اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّاھُوْ
جس کو سن کر روحِ انسانی تمام
 روزِ اوّل سے ہے اب تک شاد کام
 سبزۂ روئے زمیں ہے ذکر میں
محوِ حیرت غنچہ و گل فکر میں
جس طرح درویشِ کامل صبح دم
 وَھوَ مَعکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ (۳) میں گم
ہستی اشیا ہے بس ایسے ہی گم (۴) 
پی کے صہباے سَقَاھُمْ رَبُّھُمْ

کائنات کی حقیقت کو جاننا کوئی معمولی علم نہیں- یہ اساس معرفت ہے-تمام معارف و حقائق کاادراک اسی معرفت پر مبنی ہے-جس نے اسے نہ جانا اس نے کچھ بھی نہ جانا-عقائد کی کتابیں حقیقت اشیا کی بحث سے شروع ہوتی ہیں- عقائد نسفی کا پہلا جملہ ہے : حقائق الاشیاء ثابتۃ- یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ معرفت شے کے بغیر صحیح عقائد کا علم ممکن ہی نہیں ہے، جن پر نجات و بخشش کا مدار ہے- شیخ نے سب سے پہلے یہ عنوان قائم کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ پوری کائنات مظہر ذات حق بھی ہے اور اس کے وجود پر برہان و دلیل بھی ہے- پتہ پتہ اور ذرہ ذرہ خلاق عالم کی توحید کا اعلان کر رہا ہے- اس ذیل میں بطور خاص پہلا شعر اپنی فنی خوبی ، صوتی آہنگ ، لفظی نظم ، معنوی ندرت اور جمالیاتی رنگ میں اپنی مثال آپ ہے، جس میں ہستی کی خاموشی سے پیدا ہونے والی بھینی موسیقیت کو پردہ ٔ الہام اور اشارہ ٔ غیب بتایا گیا ہے اور سانسوں کے تسلسل سے پیدا ہونے والی نغمگی کو پیغام حق کہا گیا ہے،کیوں کہ ان سانسوں کا تسلسل جہاں حکا یت نغمہ ٔ جاناں ہے وہیں اس کے ساتھ نفخ روح حق کا رازسربستہ بھی ہے-کاش کہساروں سے اٹھنے والے نغموں اور سانسوں میں بسی ہوئی خوشبوؤ ں کے اشارات کو انسان سمجھ سکتا!

(۲)انسان کی آواز بلکہ اس کے تمام تر حرکات و سکنات کے پیچھے محرک و عامل اس کی روح ہوتی ہے اور حقیقت روح کو سمجھنا بہت ہی مشکل امر ہے-رسول کائنات علیہ التحیۃ والثناء سے جب ان کی قوم نے روح کے بارے میں سوال کیا تو قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: یَسْأَلُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّیْ (بنی اسرائیل: ۸۵) ’’ لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھ رہے ہیں- آپ کہہ دیں کہ روح کا تعلق میرے رب کے امر سے ہے -‘‘روح کے تعلق سے ایک دوسری آیت میں تخلیق آدم کے حوالے سے ارشاد ہے:فَإِذَا سَوَّیْْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِن رُّوحِیْ فَقَعُواْ لَہُ سَاجِدِیْنَ-(الحجر:۲۹) ’’ تو جب میں نے آدم کے پتلے کو مکمل کر لیا اور اس میں میں نے اپنی روح پھونک دی،تو سب آدم کے سامنے سجدے میں گر پڑے-‘‘ اس طرح انسانی زندگی اسی ’’نفخ روح‘‘ کا نتیجہ ہے- ہماری سانسوں کے پیچھے ’’نفخ روح ربانی‘‘ زبردست محرک ہے،ایسی زبردست جس کے ادراک سے عقل حیران ہے- ہمیں اس پر اعتقاد لازم ہے کہ آدم کے اندر خدا نے اپنی روح پھونکی اور انسانی روح ’’امر رب‘‘ سے ہے مگر اس راز کو سمجھنا نہ ہمارے بس کاہے اور نہ ہی ہم اس کے مکلف ہیں-

(۳)تم جہاں کہیں رہو اللہ تمھارے ساتھ ہے- (الحدید:۴)صوفیہ نہ صرف قال سے بلکہ حال سے بھی مطالعۂ فطرت میں مست و سرشار رہتے ہیں- اسی طرح کائنات بزبانِ حال اپنے خالق کی حمد وثنا میں مصروف ہے-

(۴)وَسَقَاہُمْ رَبُّہُمْ شَرَاباً طَہُوراً(الدھر:۲۱) ان کے رب نے انہیں جام طہور پلایا-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here