وَ فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ وَمَنْ عَرَفَ نَفْسَہ‘ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہ

0
104

کھول کر چشمِ حقیقت بے گماں
 دیکھ ہر شے میں ظہورِ جلِّ شاں
 کس گماں میں تو پڑا ہے بے خبر
 حق تری صورت میں خود ہے جلوہ گر(۳)
ڈھونڈتا پھرتا ہے تو اُس کو کہاں (۴)
جوتری ہستی کے اندر ہے نہاں 
چشمِ احول بیں سے پوشیدہ رہا
 اے دریغا جلوۂ نورِ خدا
 تیری خود بینی حجاب اُس نور کا
 کاش تو خود سے نکل کر دیکھتا 
بے خبر اک راز کی دنیا ہے تو
 شانِ حق کی تجھ سے ہوتی ہے نمو 
تیری رگ رگ میں تجلّی ہے نہاں
 تو سراپا ہے نشانِ بے نشاں
 تیری ہستی ہے ظہورِ حسنِ ذات (۵)
تو حقیقت میں ہے روحِ کا ئنات 
بے خبر پہچان اپنے آپ کو (۶)
نورِ قُدسی جان اپنے آپ کو (۷)
شعر کے پردے میں گویا ہے وہی
 تجھ میں شنوا اور بینا ہے وہی (۸)
 کھول کر چشم حقیقت با خدا (۹)
دیکھ اپنے میں اسے جلوہ نما
نَحْنُ اَقْرَب کا اشارہ ہے یہی (۱۰)
کُنْتُ کَنْزاًکا کنایہ ہے یہی

یہ کائنات مظہر ذات حق ہے- اپنے خالق کے وجود پر کھلی دلیل ہے- اسے انسان کی خود بینی یا کور چشمی کہیے کہ اس کی نظر خالق تک نہیں پہنچ پاتی-اگر نگاہ شوق میں بینائی پیدا ہوجائے تو کاروبار جہاں کا نقشہ کچھ اور ہی نظر آئے گا-صوفیہ اس سے بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ انسان اگر کائنات کو چھوڑ کر خود اپنی ہستی کو پہچان لے تو اسے اپنے خالق و مالک کی معرفت حاصل ہو جائے گی-ایک حدیث ضعیف ان کے یہاں بہت مقبول ہے من عرف نفسہ فقد عرف ربہ (کشف الخفاء، حدیث: ۲۵۳۰، جلد:۲، ص:۲۳۴) جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا- ناقدین تصوف اس حدیث کی تضعیف کے پردے میں اس نظریے کو ہی مسترد کرنے کی کوشش کرتے ہیں-شیخ نے اسی لیے اس حدیث ضعیف کو نقل کرنے سے قبل قرآن کی ایک آیت لکھ کر اس موقف کو نص قرآنی سے مؤیّد کردیاہے- پوری آیت کریمہ یوں ہے: وَفِیْ الْأَرْضِ آیَاتٌ لِّلْمُوقِنِیْنَ ط وَفِیْ أَنفُسِکُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ(الذاریات: ۲۰؍۲۱)اہل ایقان کے لیے زمین میں نشانیاں ہیں اور خود تمہاری اپنی ہستی میں نشانیاں ہیں-کیا تم غور نہیں کرتے؟

خاتم المحققین علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ اپنے رسالہ القول الاشبہ فی حدیث من عرف نفسہ فقد عرف ربہ میں رقم طراز ہیں:’’اس میں دوباتیں ہیں: پہلی بات یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے- امام نووی سے ان کے فتاویٰ میں اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ ثابت نہیں ہے- ابن تیمیہ نے اسے موضوع کہا ہے اور زرکشی نے الاحادیث المشتہرہ میں کہا ہے کہ ابن سمعانی نے بتایا کہ یہ یحی ٰ ابن معاذ رازی کاقول ہے- دوسری بات اس کے معنی سے متعلق ہے- امام نووی نے اپنے فتاویٰ میں فرمایا:اس کے معنی یہ ہیں کہ جو اپنی ذات کی کم زوری، احتیاج الی اللہ اور عبودیت کو جان لے، وہ اپنے رب کی قوت و ربوبیت، کمال مطلق اور صفات عالی سے بھی آشناہوجائے گا-شیخ تاج الدین بن عطاء اللہ نے لطائف المنن میں کہا ہے کہ میں نے اپنے شیخ ابو العباس المرسی کو کہتے سنا کہ اس حدیث کے دو معنی ہیں:ایک یہ ہے کہ جو اپنے نفس کی عجز و حقارت اور فقر سے آشنائی حاصل کرلے وہ اللہ کی عظمت و کبریائی اور قدرت و بے نیازی سے واقف ہوجائے گا- پہلے اپنے نفس کی معرفت ہوگی پھر اس کے بعدخدا کی معرفت حاصل ہوگی-اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی اپنے آپ کو جان لیتا ہے تو اس کا یہ جاننا اس بات کی دلیل ہوگی کہ اس نے اس سے پیشتر اللہ کی معرفت حاصل کرلی ہے-پہلا سالکین کا حال ہے جب کہ دوسرا مجذوبین کا حال ہے-اورشیخ ابوطالب مکی نے قوت القلوب میں کہا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تم خلق کے معاملات میں اپنی ذات سے واقف ہوگئے اور تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ تمہارے کام کے سلسلے میں کوئی اعتراض کرے یا تمہارے کام میں کوئی عیب نکالے تو اس سے تمہیں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تمہارے خالق کی صفات کیا ہیں اور اسے کون سی باتیں ناپسندہیں- اب اس کے فیصلے پر راضی رہو اور اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرو جیسا کہ تم چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ کیا جائے-‘‘’’اس حدیث کی ایک دوسری تفسیر بھی ہے اور وہ یہ کہ تم اس سے آشنا ہو کہ تمہاری ذات کی صفات تمہارے رب کی صفات کی ضد ہیں- اب جو شخص اپنی ذات کی فنا کو جان لے گا وہ اپنے رب کی بقا کو جان لے گااور جو اپنی ذات کے جفا اور خطا سے آگاہ ہوجائے گا وہ اپنے رب کی صفت وفا اور عطا سے آگاہ ہوجائے گااور اسی طرح جو اپنی ذات کی حقیقت کو جان لے گا وہ اپنے رب کی حقیقت ذات کو بھی جان لے گا- واضح رہے کہ تمہارے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ تم اپنی ذات کو اسی طرح جان لو جس طرح وہ ہے، پھر تمہارے لیے یہ کب ممکن ہوگا کہ تم اپنے رب کوویسا ہی جان لو جیسا کہ وہ ہے- گویا اس ارشاد من عرف نفسہ فقد عرف ربہ میں تعلیق محال بر محال ہے، کیوں کہ اپنے نفس کی حقیقت اور کیفیت و کمیت سے تمہارا واقف ہو نا محال ہے اور جب تمہارے لیے اپنی ذات کی صفات؛ کیفیت، کمیت، اینیت اور فطرت کا بیان محال ہے، نہ ہی وہ قابل دید ہے تو پھر تمہاری بندگی کو یہ کب زیب دے گا کہ وہ ربوبیت کی کیفیت و اینیت بیان کرنے لگے، جو کیف و این سے پاک ہے-‘‘(الحاوی للفتاویٰ:۲/۲۳۹، ۲۴۰، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
حاشیۂ جلالین جو مفتی ارشاد حسین رام پوری صاحب کے کسی شاگرد کی طرف منسوب ہے، میں سورۂ فاطر کی آیت یَا أَیُّہَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاء إِلَی اللَّہِ وَاللَّہُ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ کے ذیل میں صاوی کے حوالے سے من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا قول بتایا گیاہے-اسی طرح بعض حضرات اسے مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی طرف بھی منسوب کرتے ہیں-(۱) (الصواعق المحرقہ:۲/۳۷۹، الرسالہ، بیروت)

(۳)یا تو اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خدا نے آدم کو اپنی صورت میں پیدا کیا – فان اللّٰہ خلق آدم علی صورتہ(مسلم،کتاب البر والصلہ،باب النھی عن ضرب الوجہ) واضح رہے کہ یہاں آدم سے مراد تمام اولاد آدم ہیں، کیونکہ یہ حدیث چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں وارد ہے -یا پھر یہ بتانا مقصود ہے کہ انسان اس کائنات کی سب سے بڑی تخلیقی شاہکار ہونے کی وجہ سے خالق کے وجود پر سب سے بڑی دلیل اور ذات حق کا سب سے بڑا مظہر ہے-اس لیے اس عظیم برہان اور مظہر کامل کے سامنے ہوتے ہوئے خدا کی معرفت سے دوری سخت غفلت اور انتہائی بے خبری ہے-یا یہ بتاناہے کہ خلق کا وجود بذات خودحق کے وجود کی دلیل ہے – جیسے کہا جائے کہ دھوپ کی آمد خود آفتاب کی آمد ہے- یا چاندنی کو دیکھ کر کہا جاتا ہے کہ گھر میں چاند اتر آیا ہے -ظاہر ہے کہ ایسے وقت میں بھی اگرکوئی سورج یا چاند کے وجود کی شہادت مانگے تو اس سے بڑا بے خبر کون ہو سکتا ہے؟

(۴)تیرا وجود تیرے رب کے وجود کی کھلی شہادت ہے – وَفِیْ أَنفُسِکُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (الذاریات:۲۱) ’’تمہارے اندر خدا کی نشانیاں ہیں، کیا تم غور نہیں کرتے؟‘‘ذاتِ حق کی آیات بینات تمہارے اندر موجودہیں اور تم اس کی تلاش میں سرگرداں اور اس کے وجود میں مشکوک ہو؟

(۵)کیوں کہ سالار کاروانِ انسانیت جناب محمد رسول اﷲ ﷺ ہی خالق کائنات کی اوّلین تخلیق ہیں اور انہیں سے اور انہیں کے لیے پوری انجمن سجائی گئی ہے-جیسا کہ بعض ضعیف روایتوں میں مذکور ہے- اس لیے خالق کے نگار خانے کی سب سے شاہکار تخلیق انسان ہے،جس سے تخلیق اولین کا تعلق ہے یا انسان اس معنی میں روح ِ کائنات ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے ، وہ تمام مخلوقات کی صفات کا جامع اور سب سے کامل ہے جس سے خدائی نشانیوں کا سب سے زیادہ ظہور ہوتا ہے-

(۶)تو وہی روح ہے جسے اللہ کریم نے آدم خاکی میں پھونکا تھااور نو رمن اﷲ تیرے ہی امیر و سلطان کے لیے وارد ہوا ہے ، جو تیری نوع سے ہیں-

(۷)کائنات کا ایک ذرہ بھی اس کے چاہے بغیر نہیں ہل سکتا – پھر شاعری کا یہ لطف انگیز جام معرفت اس کے چاہے بغیر کیسے لنڈھایا جاسکتا ہے؟انسان کے پورے وجود پر اس کی روح کی حکمرانی ہے، مگر یہ روح کیا ہے اور کیا وہ بالکلیہ آزاد ہے؟ اس کے اوپر کس کی حکمرانی ہے؟ ان سوالات پر غور کرنے سے یہ عقدہ کھل جائے گا کہ اصل گویا، شنوا اور بینا کون ہے- ممکن ہے اس بات کی طرف بھی اشارہ ہو کہ یہ مضامین ایک مخصوص کیفیت کے تحت خیال میں آئے ہیں- ان کی حیثیت عامی نہیں، الہامی ہے-ــیہاں قدر و جبر کے حوالے سے علمائے اسلام کے موقف کو سامنے رکھنا بے محل نہیں ہوگا -عقائد کے باب میں رونما ہونے والے اولین اختلافات میں سے یہ ایک ہے-قدریہ اس بات کی طرف گئے کہ تقدیر نام کی کوئی شے نہیں- بندہ اپنے افعال و اقوال کا خالق اور ذمہ دار خود ہے اور اسی پر سزا و جزا کا مدار ہے – جبریہ اس سمت گئے کہ بندے کا اختیار کچھ بھی نہیں ، سب کچھ تقدیر و تخلیق ربانی سے ہے- بندہ مجبور محض ہے – اہل سنت کا موقف درمیانی ہے ، نہ وہ پورے طور پر جبری ہیںاور نہ پورے طور پر قدری -ایک جہت سے جبری ہیں اور ایک جہت سے قدری- وہ اس اعتبار سے جبری ہیں کہ افعال و اقوال کا خالق صرف خدا کو مانتے ہیں اور اس اعتبار سے قدری ہیں کہ وہ بندے کے لیے قوت کسب مانتے ہیں ، اگرچہ اصل خالق و محرک صرف اﷲ تعالیٰ کوہی مانتے ہیں -اہل سنت کے اس واضح موقف کی روشنی میں اس بات کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ بندے کے اندر حقیقی شنوا ، بینا اور گویا حق تعالیٰ کی ذات اقدس ہے – شاعر بظاہر اپنی فکر کو مہمیز اور زبان کو حرکت ضرور دیتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ خیال کے اندر غیب سے مضامین کی آمد ہوتی ہے – جبرو قدر سے پاک یہی اہل سنت کا مذہب اعتدال ہے- یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اہل دل کا کلام بظاہر جبر کی طرف مائل نظر آتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ مائل بہ جبر ہیں، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ان کے ایک ہاتھ میں توکل کی دولت اور دوسرے میں اپنی خودی کی راکھ ہوتی ہے اور دل موجِ وحدت سے لبریز ہوتا ہے – وہاں غیر کا گزر ہی نہیں ہوتا ،خود اپنا بھی نہیں – ’’ تو ہی تو ‘‘ان کا کل سرمایہ ہوتا ہے-

(۸) اقبال نے کہا : کرا جوئی چرا در پیچ و تابی کہ او پیدا ست تو زیر نقابی (کس کی تلاش میں ہو اور کیوں پریشان ہو رہے ہو ؟ وہ تو سامنے ہے ،تم چھپے ہوئے ہو-)چشم حقیقت بیں سے اپنی ذات میں ذات حق کو جلوہ نما دیکھنے کے یہ معنی ہیں کہ انسان جو آیات الٰہیہ کا سب سے بڑا مظہر ہے، اگر خود وہ اپنی ذات کا حقیقت پسندانہ مطالعہ کرے تو اسے تلاش حق کے لیے کہیں اور جانے کی ضرورت نہ ہوگی- پوری کائنات اور تمام انفس و آفاق میں ربانی آیات کا ایسا بے حجابانہ ظہور ہے کہ اگر چشم حق بیں سے انسان ان کا مطالعہ کرے تو خود اسے اپنا وجود محجوب معلوم ہوگا- اقبال نے اسی تناظر میں یہ اشعار کہے ہیں اور شیخ اسی چشم بینا کو کھولنے کی بات کررہے ہیں- شیخ کے بقول من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کا حاصل یہی ہے، وَفِیْ أَنفُسِکُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَکایہی مطلوب ہے، ذات حق کے شہ رگ سے قریب تر ہونے کے بھی یہی معنی ہیں، اللہ کی صفت ھوالظاہر کا مدعا بھی یہی ہے اور اسی کی طرف ایک ضعیف روایت کنت کنزاً مخفیاً کا اشارہ ہے-

(۹)وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ(ق:۱۶)ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں-

(۱۰)امام عجلونی نے کشف الخفاء میں حدیث نمبر۲۰۱۶ کے ذیل میں لکھا ہے :’’کنت کنزاً لا اعرف فاحببت ان اعرف فخلقت خلقاًفعرفتھم بی فعرفونی (میں ایک نامعلوم خزانہ تھا تو میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں تو میں نے خلق کی تخلیق کی اور انہیں خود سے آشنا کرایا تووہ مجھ سے آشنا ہوگئے-)ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: فتعرفت الیھم فبی عرفونی(تو میں ان کے لیے شناسا ہوگیا تو وہ میری وجہ سے مجھ سے آشنا ہوگئے-) ابن تیمیہ نے کہا ہے کہ یہ کلام رسول نہیں ہے اور اس کی کوئی بھی صحیح یا ضعیف سند موجود نہیں ہے- زرکشی نے اللآلی المصنوعہ میں اور ابن حجر اور سیوطی وغیرہ نے بھی یہی کہا ہے- اور ملا علی القاری فرماتے ہیں:لیکن اس کے معنی صحیح ہیںاور اللہ تعالیٰ کے اس قول سے مستفاد ہیں :وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ(میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا-) لیعبدون کے معنیلیعرفونی (تاکہ وہ مجھے پہچانیں) ہیں ، جیسا کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی تفسیر کی ہے- اور زبان زد یہ الفاظ ہیں: کنت کنزاً مخفیاً فاحببت ان اعرف فخلقت خلقا فبی عرفونی اور صوفیہ کے یہاں یہ کثرت سے موجود ہے- اس پر انہوں نے اعتماد کیا ہے اور اس سے متعدد اصول اخذ کیے ہیں- ‘‘(کشف الخفاء:۲/۱۳۲،دار احیاء التراث العربی)شیخ محی الدین ابن عربی نے لکھا ہے :’’ یہ حدیث کشفاً ثابت ہے نقلا ًغیر ثابت ہے-‘‘(الفتوحات المکیہ،باب:۱۹۸)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here