فضائل آداب نبوی

0
86

 صدق دل سے سن کلامِ بو سعید 
تاکہ فضل باری ہو تجھ پر مزید 
بے عنایاتِ خدا و مصطفی 
زاہدِ صد سالہ مردودِ خدا
 جس کے دل میں ہو نہ عشقِ احمدی
 وہ ہے مردودِ خلائق اور شقی 
جو محمدﷺ مصطفی کا ہے ادب 
بے شک و شبہ وہی آدابِ رب(۱)
خود کلام اﷲ میں ہے یوں رقم
 بے ادب لاَ تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکمْ(۲)
تارکِ آداب بے چون و چرا 
صورتِ ابلیس مغضوبِ خدا 
جو محمدﷺ مصطفی سے پھر گیا
 در حقیقت وہ خدا سے پھر گیا 
منکر تعظیمِ حضرت جو ہوا 
طوقِ لعنت اس کی گردن میں پڑا 
نورِ حق کی عزت و تکریم کر
 عبد خاص الخاص کی تعظیم کر 
صدق دل کے ساتھ پھر بعد سجود 
بھیج اُس ذاتِ مقدس پر درود 
ہر نفس اس کا رہے بس التزام 
یعنی محبوبِ خدا پر ہو سلام
 عارفِ کامل کا ایماں ہے 
یہی مرشدِ بر حق کا فرماں ہے یہی

(۱) مَنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّہَ(النساء:۸۰) جس نے رسول کی اطاعت کی یقینا اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ شیخ ابن تیمیہ نے لکھا ہے:ان جہۃ حرمۃ اللّٰہ تعالیٰ ورسولہ جہۃ واحدۃ فمن اذی الرسول فقد اذی اللّٰہ ومن اطاعہ فقد اطاع اللّٰہ لان الامۃ لایصلون ما بینھم و بین ربھم الا بواسطۃ الرسول۔ لیس لاحد منھم طریق غیرہ ولا سبب سواہ۔ وقد اقامہ اللّٰہ مقام نفسہ فی امرہ ونھیہ واخبارہ و بیانہ فلایجوز ان یفرق بین اللّٰہ و رسولہ فی شیء من ہٰذہ الامور۔( الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ص:۴۰،دار ابن رجب ۲۰۰۳ء) ’’ اللہ اور اس کے رسول کی حرمت بالکل ایک ہے۔ جس نے رسول کو تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ کیونکہ اس امت کے لوگ اپنے رب تک صرف رسول کے واسطے سے ہی پہنچ سکتے ہیں۔ کسی بھی فرد کے لیے طریق مصطفی کے علاوہ کوئی دوسری راہ یا وسیلہ ہے ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو اوامر و نواہی اور بیان احکام میں اپنا قائم مقام بنا دیا ہے۔ اس لیے یہ جائز نہیں کہ ان امور کے تعلق سے اللہ اور رسول میں کسی طرح کی کوئی تفریق کی جائے۔‘‘ 

 (۲)   لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ(الحجرات:۲) اپنی آواز نبی کی آواز سے اونچی مت کرو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here