فریاد ببارگاہ خیر العبادﷺ

0
74

نتیجۂ فکر: ذیشان احمد مصباحی

کس قدر مشک اور عنبر میں نہائی ہوئی ہے
صبحِ میلاد بھی کس شان سے آئی ہوئی ہے!

کس قدر فرحت و نکہت کی فضا چھائی ہے
جیسے اس خاک پہ جنت سی اتر آئی ہے

لیکن اس حال میں اس دل کا ہے کچھ حال برا
کچھ تمنائیں ہیں دل میں تو زباں پر شکوہ

پہلا موقع ہے قلم مدح پیمبر میں چلا
پہلا موقع ہے کہ فریاد میں رونا آیا

نعت کیا لکھوں کہ مجبور ہوں لاچار ہوں میں
بارِ عصیاں غمِ دوراں سے بھی دوچار ہوں میں

ذات جب خود ہی محمد ہے تو مدحت کیسی؟
روشنی کی بھلا خورشید کو حاجت کیسی؟

مصطفیٰ امتِ بے کس کی یہ فریاد سنو
نالۂ درد فغان دل ناشاد سنو

اک طرف کفر کی آندھی ہے کہ رکتی ہی نہیں
موجِ طوفانِ بلا ایسی کہ تھمتی ہی نہیں

آتشِ کفر جلاتی ہے مرے خرمن کو
نارِ الحاد نے برباد کیا گلشن کو

دوسری سمت مسلماں ہے مسلماں کے خلاف
گویا ایماں ہی کھڑا ہوگیا ایماں کے خلاف

فرقہ بندی کا دھواں اٹھتا ہے اپنے گھر سے
تیر تکفیر کا چلتا ہے یہاں اندر سے

کہیں اسلام نہیں ہے کہیں ایمان نہیں
کیا مسلمان کے اندر بھی مسلمان نہیں؟

بھیڑیا کفر کا بھوکا مرے دروازے پر
اژدہا غیظ کا تکفیر کا کاشانے پر

جل گیا میرا فلسطین عراق وافغان
جل رہا ہے مرا کشمیر، مرا ہندوستان

اب بھی برما کے سمندر سے دھواں اٹھتا ہے
اب بھی خاکسترِ گجرات میں کچھ جلتا ہے

اب بھی بنگال میں کچھ لوگ ہیں بے گھر، بے در
اب بھی کچھ لوگ بنے پھرتے ہیں دریوزہ گر

موب لنچنگ نے کیے ہیں مرے اوسان خطا
اب تو انساں نظر آتا ہے درندہ جیسا

وطنِ ہند پہ اب وحشت و ظلمت چھائی
گنگا میلی ہوئی، جمنا بھی مری گدلائی

رحمتِ عالمیاں! ہند پہ احساں کیجے
پھر سے انسانوں کو آقا مرے انساں کیجے

یک نظر چشم کرم مصطفیٰ فرمائیے پھر
مصطفیٰ امتِ بے کس پہ رحم کھائیے پھر

مصطفیٰ بارِ غمِ دل کو کچھ ہلکا کیجے
مصطفیٰ جبر کی چکی سے نکلوائیے پھر

مصطفیٰ آپ کی امت ہے بھنور کی زد میں
مصطفیٰ ساحلِ راحت پہ پہنچوائیے پھر

مصطفیٰ غم سے پھٹا جاتا ہے سینہ میرا
کچھ دوائے دلِ مضطر ہمیں بتلائیے پھر

لوٹی اٹھلاتی ہوئی باد صبا میری طرف
لائی پر کیف یہ پیغام، صبا میری طرف

کیوں پریشان ہے بے چین ہے مضطر ہے تو؟
جان کونین ہے رشک مہ و اختر ہے تو

تو عروس حرف کن بھی ہے اے سروچمن
تیرے ہی واسطے وارد ہوا ہے لا تحزن

بات کچھ بھی تو نہیں تو نہ پریشاں ہونا
تجھ پہ لازم اے مسلمان! مسلماں ہونا

میری تصدیق کرو شرحِ معانی چھوڑو
تھام لو حبلِ محمد کو کہانی چھوڑو

چھوڑو ہر فسق کو اور کفر کی ہر نسبت کو
فرقہ بندی کو بھی تفریق کی ہر لعنت کو

چاہتے ہو اگر اسلام کا اونچا ہو علَم
سر نگوں کفر ہو، الحاد کی گردن ہو قلم

مجھ کو مانے جو کوئی اس کو مسلماں جانو
اپنے باغی کو نہ تم باغی ایماں جانو

بعد ازاں نقش کف پائے محمد پہ چلو
صبغۃاللہ میں رنگ جاؤ مسلمان بنو

درس اقرأ کا پڑھو پیکر اخلاق بنو
ینفع الناس پڑھو نائب خلاق بنو

تشنگی ختم ہے گر ہاتھ میں ہے بادہ و جام
ہر مسلمان سلامت ہے بشرطِ اسلام

Previous articleعدالت عظمیٰ کا فیصلہ ماضی کا تجربہ، حال کا تجزیہ اور مستقبل کی تشکیل
ذیشان احمد مصباحی
اکیسوں صدی میں جن افراد نے مذہبی صحافت کو زندہ اورتابندہ کیا، مذہبی ادب کے خشک جزیروں کی سیاحی کرتے ہوئے انھیں اپنی وسعتِ نظر، عمیق فکر، اعلیٰ تحقیقی وتنقیدی شعور اور بے باک قلم کے ذریعے دوبارہ آباد کیا ان میں ایک نمایاں نام مولانا ذیشان احمد مصباحی دام ظلہ العالی کا ہے۔ آپ کی پیدائش۵ ۲؍مئی ؍۱۹۸۴ء کو مغربی چمپارن، بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۹۹ء میں جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کا رخ کیا اور ۲۰۰۴ء میں وہاں سے فضیلت کی تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد ماہنامہ جامِ نور، دہلی سے وابستہ رہے اور ۲۰۱۲ء تک اس کے منصبِ ادارت پر فائز رہے۔۲۰۱۲ء سے تاحال جامعہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد میں رہ کر اس کی علمی اور فکری فضا کو مزید ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔شعر وشاعری سے بھی شغف ہےاور مقالات ومضامین کی تعداد ڈیڑھ سو سے متجاوز ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here