Thursday, November 24, 2022

فریاد ببارگاہ خیر العبادﷺ

نتیجۂ فکر: ذیشان احمد مصباحی

کس قدر مشک اور عنبر میں نہائی ہوئی ہے
صبحِ میلاد بھی کس شان سے آئی ہوئی ہے!

کس قدر فرحت و نکہت کی فضا چھائی ہے
جیسے اس خاک پہ جنت سی اتر آئی ہے

لیکن اس حال میں اس دل کا ہے کچھ حال برا
کچھ تمنائیں ہیں دل میں تو زباں پر شکوہ

پہلا موقع ہے قلم مدح پیمبر میں چلا
پہلا موقع ہے کہ فریاد میں رونا آیا

نعت کیا لکھوں کہ مجبور ہوں لاچار ہوں میں
بارِ عصیاں غمِ دوراں سے بھی دوچار ہوں میں

ذات جب خود ہی محمد ہے تو مدحت کیسی؟
روشنی کی بھلا خورشید کو حاجت کیسی؟

مصطفیٰ امتِ بے کس کی یہ فریاد سنو
نالۂ درد فغان دل ناشاد سنو

اک طرف کفر کی آندھی ہے کہ رکتی ہی نہیں
موجِ طوفانِ بلا ایسی کہ تھمتی ہی نہیں

آتشِ کفر جلاتی ہے مرے خرمن کو
نارِ الحاد نے برباد کیا گلشن کو

دوسری سمت مسلماں ہے مسلماں کے خلاف
گویا ایماں ہی کھڑا ہوگیا ایماں کے خلاف

فرقہ بندی کا دھواں اٹھتا ہے اپنے گھر سے
تیر تکفیر کا چلتا ہے یہاں اندر سے

کہیں اسلام نہیں ہے کہیں ایمان نہیں
کیا مسلمان کے اندر بھی مسلمان نہیں؟

بھیڑیا کفر کا بھوکا مرے دروازے پر
اژدہا غیظ کا تکفیر کا کاشانے پر

جل گیا میرا فلسطین عراق وافغان
جل رہا ہے مرا کشمیر، مرا ہندوستان

اب بھی برما کے سمندر سے دھواں اٹھتا ہے
اب بھی خاکسترِ گجرات میں کچھ جلتا ہے

اب بھی بنگال میں کچھ لوگ ہیں بے گھر، بے در
اب بھی کچھ لوگ بنے پھرتے ہیں دریوزہ گر

موب لنچنگ نے کیے ہیں مرے اوسان خطا
اب تو انساں نظر آتا ہے درندہ جیسا

وطنِ ہند پہ اب وحشت و ظلمت چھائی
گنگا میلی ہوئی، جمنا بھی مری گدلائی

رحمتِ عالمیاں! ہند پہ احساں کیجے
پھر سے انسانوں کو آقا مرے انساں کیجے

یک نظر چشم کرم مصطفیٰ فرمائیے پھر
مصطفیٰ امتِ بے کس پہ رحم کھائیے پھر

مصطفیٰ بارِ غمِ دل کو کچھ ہلکا کیجے
مصطفیٰ جبر کی چکی سے نکلوائیے پھر

مصطفیٰ آپ کی امت ہے بھنور کی زد میں
مصطفیٰ ساحلِ راحت پہ پہنچوائیے پھر

مصطفیٰ غم سے پھٹا جاتا ہے سینہ میرا
کچھ دوائے دلِ مضطر ہمیں بتلائیے پھر

لوٹی اٹھلاتی ہوئی باد صبا میری طرف
لائی پر کیف یہ پیغام، صبا میری طرف

کیوں پریشان ہے بے چین ہے مضطر ہے تو؟
جان کونین ہے رشک مہ و اختر ہے تو

تو عروس حرف کن بھی ہے اے سروچمن
تیرے ہی واسطے وارد ہوا ہے لا تحزن

بات کچھ بھی تو نہیں تو نہ پریشاں ہونا
تجھ پہ لازم اے مسلمان! مسلماں ہونا

میری تصدیق کرو شرحِ معانی چھوڑو
تھام لو حبلِ محمد کو کہانی چھوڑو

چھوڑو ہر فسق کو اور کفر کی ہر نسبت کو
فرقہ بندی کو بھی تفریق کی ہر لعنت کو

چاہتے ہو اگر اسلام کا اونچا ہو علَم
سر نگوں کفر ہو، الحاد کی گردن ہو قلم

مجھ کو مانے جو کوئی اس کو مسلماں جانو
اپنے باغی کو نہ تم باغی ایماں جانو

بعد ازاں نقش کف پائے محمد پہ چلو
صبغۃاللہ میں رنگ جاؤ مسلمان بنو

درس اقرأ کا پڑھو پیکر اخلاق بنو
ینفع الناس پڑھو نائب خلاق بنو

تشنگی ختم ہے گر ہاتھ میں ہے بادہ و جام
ہر مسلمان سلامت ہے بشرطِ اسلام

Share

Latest Updates

Frequently Asked Questions

Related Articles

جان ہے بےتاب

جان ہے بے تاب، اور قلب و جگر پر اضطراب کب بھلا ! ناچیز...

نعتیہ کلام

صوفیانہ کلام

نگاہِ یار