اعتدال اورمقام آدمیت پر استقامت

0
28

حضورداعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے درمیان گفتگو فرمایاکہ: 
وہ شخص جو معاشرے میں قابل احترام ہو،لوگ جس کے ہاتھ اورپاؤں چومتے ہوں اس شخص کو حجراسود کی طرح ہونا چاہیے کہ حجراسود کو نہ جانے کتنے انبیا اور اولیا نے بوسہ دیا مگر حجراسود ،حجراسود ہی رہا۔اس کی حالت کبھی متغیر نہ ہوئی،نہ اس کو غرور آیا اور نہ ہی وہ خوشامدی کا طلب گار ہوا۔
اسی طرح وہ لوگ جن کے ہاتھ پاؤں چومے جاتے ہیں،ان کو بھی ایک ہی حالت یعنی اعتدال اورمقام آدمیت پر استقامت کے ساتھ باقی رہنا چاہیےاوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوںعرض کرناچاہیے: 
رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۝۲۳ (سورۂ اعراف) 
ترجمہ:اے ہمارے رب!ہم نے اپنی جانوںپر ظلم کیا اوراگرتو ہماری مغفرت نہ فرمائے تو ہم ضرور گھاٹے والوں میں ہوں گے۔ 
کسی کے ہاتھ اورپاؤں چومنے سے نہ خوش ہونا چاہیے اور نہ مغرور اور نہ ہی نہ چومنے والے سے شاکی ہونا چاہیے،بلکہ ہمیشہ اپنے آپ کو ظالم اور گناہ گارسمجھنا چاہیے۔آنے والاہاتھ اورپاؤں چومے یا نہ چومے کوئی فرق نہ پڑے۔اس اعتبارسے یہ کہاجاسکتاہے کہ حجراسود لائق تقلید اورقابل رشک ہے۔ 

خضرِ راہ، اپریل ۲۰۱۳ء 
Previous articleعلماو صوفیہ، انصار و مہاجرین کی طرح ہیں
Next articleعلما مثل آب ہیں
اڈمن
الاحسان میڈیا اسلامی جرنلزم کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے خالص اسلامی اور معتدل نقطۂ نظر کی ترویج و اشاعت کو آسان بنایا جاتا ہے ۔ساتھ ہی اسلامی لٹریچرز اور آسان زبان میں دینی افکار و خیالات پر مشتمل ڈھیر سارے علمی و فکری رشحات کی الیکٹرانک اشاعت ہوتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here