Monday, January 30, 2023

اعتدال اورمقام آدمیت پر استقامت

حضورداعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے درمیان گفتگو فرمایاکہ: 
وہ شخص جو معاشرے میں قابل احترام ہو،لوگ جس کے ہاتھ اورپاؤں چومتے ہوں اس شخص کو حجراسود کی طرح ہونا چاہیے کہ حجراسود کو نہ جانے کتنے انبیا اور اولیا نے بوسہ دیا مگر حجراسود ،حجراسود ہی رہا۔اس کی حالت کبھی متغیر نہ ہوئی،نہ اس کو غرور آیا اور نہ ہی وہ خوشامدی کا طلب گار ہوا۔
اسی طرح وہ لوگ جن کے ہاتھ پاؤں چومے جاتے ہیں،ان کو بھی ایک ہی حالت یعنی اعتدال اورمقام آدمیت پر استقامت کے ساتھ باقی رہنا چاہیےاوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوںعرض کرناچاہیے: 
رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۝۲۳ (سورۂ اعراف) 
ترجمہ:اے ہمارے رب!ہم نے اپنی جانوںپر ظلم کیا اوراگرتو ہماری مغفرت نہ فرمائے تو ہم ضرور گھاٹے والوں میں ہوں گے۔ 
کسی کے ہاتھ اورپاؤں چومنے سے نہ خوش ہونا چاہیے اور نہ مغرور اور نہ ہی نہ چومنے والے سے شاکی ہونا چاہیے،بلکہ ہمیشہ اپنے آپ کو ظالم اور گناہ گارسمجھنا چاہیے۔آنے والاہاتھ اورپاؤں چومے یا نہ چومے کوئی فرق نہ پڑے۔اس اعتبارسے یہ کہاجاسکتاہے کہ حجراسود لائق تقلید اورقابل رشک ہے۔ 

خضرِ راہ، اپریل ۲۰۱۳ء 

Share

Latest Updates

Frequently Asked Questions

Related Articles

اہل عقیدہ کے پانچ طبقات

حضور داعی اسلام دام ظلہ العالی کی خدمت میں علما کی ایک جماعت کے...

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد

عارف باللہ مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے ایک مجلس میں...

اللہ جیسے چاہے اپنا دیدار کرائے

۲۷؍اگست ۲۰۱۶ء بعد نمازِ مغرب حضرت داعی اسلام دام ظلہ کی ہفتہ واری عرفانی...

عوام اور خواص کے عمل میں فرق

سلطان العارفین حضرت مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہٗ کے۱۱۷؍ویں عرس کے موقع پر...