ایک رخ ہوکر نماز پڑھنے کا حکم امت کو انتشار وافتراق سے بچانے کے لیے ہے

0
80
سیدسراں الہ آباد میں منعقد ’’درس عقیدۂ اہل سنت‘‘ میں مفتی کتاب الدین رضوی کا خطاب
اہل سنت وجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ اللہ رب العزت مکان سے پاک ہے۔ وہ کسی مکان میں نہیں ہے؛ کیوں کہ مکان میں وہ ہوتا ہے جو جسم وجسمانیت والا ہو ، اللہ رب العزت جسم وجسمانیت سے محفوظ ہے؛ کیوں کہ جسم مرکب ہوتا ہے اور جن چیزوں سے مرکب ہوتا ہے ان کا محتاج ہوتا ہے اور جو محتاج ہوتا ہے وہ حادث وممکن ہوتا ہے، اللہ رب العزت ازلی وقدیم ہے، واجب الوجود ہے، وہ حادث وممکن نہیں؛ اس لیے وہ مرکب بھی نہیں اور جب مرکب نہیں تو جسم والا بھی نہیں ہے۔ ان تمام خیالات کا اظہار خانقاہِ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد میں منعقد ’’درسِ عقیدۂ اہلِ سنت‘‘ میں مفتی محمد کتاب الدین رضوی نے کیا۔
خانقاہِ عارفیہ، سید سراواں میں ہمیشہ اعراس کی تقریبات کے بعد ’’درس عقیدۂ اہل سنت‘‘ کی محفل کا انعقاد ہوتا ہے، جس میں آنے والے زائرین اور علما وطلبہ شرکت کرتے ہیں۔ آج کے مسلمانوں کا سخت المیہ یہ بھی ہے کہ انھیں ان عقائد کے بارے میں بھی علم نہیں ہےجن پر ایمان رکھنا ہر مسلم کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عوام تو عوام کثیر اہل علم بھی ان سے صحیح طور سے واقف نہیں ہوتے، جس کے نتیجے میں فروعی چیزوں کو اہل سنت کا عقیدہ بناکر دوسروں پر طعن وتشنیع کا ایک لامحدود سلسلہ شروع کردیتے ہیں۔ ایسے نازک ماحول میں اعراس کے موقع پر اس طرح کے درس کا انعقاد کرنا یقینا خانقاہِ عارفیہ کا بڑا کارنامہ ہے ۔
مفتی صاحب نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب اللہ رب العزت جہت ومکان سے پاک ہےاور ہر جگہ اپنے علم وقدرت کے ساتھ جلوہ گر ہے تو پھر نماز میں صرف خانۂ کعبہ کی طرف رخ کرنے بلکہ ایک رخ ہوکر نماز پڑھنے کا حکم اس وجہ سے ہے کہ امت انتشار وافتراق سے محفوظ رہے۔ اللہ رب العزت کے نزدیک محبوب یہ ہے کہ اس کے بندے یک رخ اور یک سو ہوکر اس کی طاعت وبندگی کریں ۔یوں ہی زمین پر سجدے کا حکم اس وجہ سے نہیں دیا گیا ہے کہ معاذاللہ! اللہ رب العزت کی ذات زمین کے اندرہے، بلکہ زمین پر سجدے کا حکم عجز وانکساری کے اظہار کے لیے ہے۔ بندہ مٹی جیسی حقیر شے پر اپنی پیشانی رکھ کر اپنی عجز وانکساری کا اظہار کرتا ہے جو اللہ رب العزت کے یہاں نہایت ہی محبوب ہے۔
اس محفل کی نظامت مولانا عارف اقبال مصباحی نے کی جب کہ قاری سرفراز ازہری نے تلاوت کلام پاک فرمائی اور اویس رضا گجراتی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔یہ درس عرس کے تیسرے دن بعد نماز ظہر منعقد ہوا تھا جو صلاۃ و سلام اور صاحب سجادہ حضرت شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی کی دعا پر اختتام پذیر ہوا اور اس کے ساتھ ہی حضرت مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہ کا ۱۱۹ ؍واں عرس اپنی تمام تر تقریبات کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔واضح رہے کہ عرس عارفی کی تمام تقریبات شاہ صفی میمورل ٹرسٹ کے زیر اہتمام وانصرام منعقد کی جاتی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here