عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک تقریب کی تیاری کے دوران جب مجھے پتہ چلا کہ خانقاہ عالیہ عارفیہ سے ایک قافلہ شہنشاہ ولایت مخدوم شیخ سعدالدین قدس سرہ کے عرس مبارک میں حاضری کی غرض سے روانہ ہونے والا ہے تو میں نے ولی عہد مخدومنا حضرت حسن سعید صفوی مد ظلہ سے التماس کی کہ مجھ گنہگار کو بھی اپنے ساتھ اس قافلے میں شامل کر لیں۔ یہ آپ ہی کا کرم تھا کہ مجھے اس مبارک اور تاریخی سفر میں جانے کا موقع ملا۔
سفر کی ابتدا سے پہلے مجھے میرے مرشد گرامی داعی اسلام شاہ احسان اللہ محمدی مد ظلہ العالی نے ایک عظیم نعمت سے نوازا۔ بظاہر یہ تعلیم عتاب کی صورت میں تھی، مگر؎

لطف نہان یار کا مشکل ہے امتیاز
رنگت چڑھی ہوئی ستم برملا کی ہے

مرشد گرامی کی اجازت اور دعاؤں کے ساتھ ۱۵؍دسمبر ۲۰۱۶ء بروز جمعرات ساڑھے گیارہ بجے دن میں اس قافلے نے خانقاہ عالیہ عارفیہ سید سراواں شریف سے کوچ کیا۔ یہ قافلہ دو گاڑیوں کی شکل میں تھا اور اس قافلے کے امیر حضرت مخدوم حسن سعید صفوی ازہری تھے۔ آپ کی معیت میں جو حضرات اس قافلے میں شامل تھے ان کے اسما مندرجہ ذیل ہیں:حضرت محبوب اللہ بقائی صاحب، حضرت مولانا ضیاء الرحمن علیمی، حضرت مولانا ذیشان احمد مصباحی، حضرت مولانا غلام مصطفی ازہری ، حضرت مولانا مجیب الرحمن علیمی، مولوی اختر رضا تیواری، مولوی اختر تابش۔
مغرب کے وقت ہمارا قافلہ خیرآباد شریف پہنچا۔ نمازکی ادائیگی کے بعد قطب عالم مخدوم شیخ سعد الدین قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ حاضری کے بعد درگاہ شریف کے صاحب سجادہ شعیب میاں اور حضرت ضیا علوی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ قیام ضیا علوی صاحب کے گھر رہا۔ ناشتہ اور کھانے کے بعد چھوٹے مخدوم حضرت سید نظام الدین الہدیہ قدس سرہ کے مزار اقدس کی حاضری اور فاتحہ خوانی کے لیے ہم لوگ روانہ ہوئے۔ وہاں حاضری اور فاتحہ خوانی کے بعد گاگر کی محفل میں شرکت کی اور اس کے بعد اپنی قیام گاہ لوٹ آئے اور رات کی محفل میں شرکت کی۔ جب ہمارے یہاں کے درباری قوال عبد الحفیظ بھائی نے قصیدہ بردہ شریف پڑھنا شروع کیا تو محفل میں گویا آگ لگا دی ہو۔ جسے دیکھو وہی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر تڑپ رہا تھا، رو رہا تھا۔ حضرت محبوب اللہ بقائی صاحب وجد کی کیفیت میں رقص کر رہے تھے۔ پھر قوال نے مخدوم شیخ سعد قدس سرہ کی غزل ’’نشاں بر تختۂ ہستی‘‘ پڑھی تو مخدومنا حضرت حسن سعید صفوی صاحب فرط وجد میں تڑپنے لگے۔دوسرے شعر پر مولانا ضیاء الرحمن صاحب حالت وجد میں رقص کرنے لگے۔ بڑی نورانی محفل تھی۔ مخدوم صاحب قدس سرہ کے فیض کی بارش ہو رہی تھی اور اہل دل اپنے ظرف کے مطابق خود کوسیراب کیے جارہے تھے۔
محفل سماع کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ پر لوٹ آئے۔ فجر سے کچھ قبل مولانا شوکت علی سعیدی اورجناب سمیر صاحب دہلی سے بذریعۂ کار مجمع السلوک شریف کو لے کر حاضر ہوئے۔ جب مجمع السلوک شریف کی زیارت ضیاء میاں اور صاحب سجادہ شعیب میاں اور محبوب میاں نے کی تو اسے سر پر رکھ کر رونے لگے اور اللہ اللہ کا نعرہ بلند کرنے لگے۔ ایک عجیب سی کیفیت ہم سب پر طاری ہو گئی۔
جمعہ سے پہلے مرشدنا حضور داعی اسلام شاہ احسان اللہ محمدی مد ظلہ العالی علما اور طلبہ کے ہمراہ خیرآباد تشریف لے آئے۔ ڈاکٹر جہانگیر مصباحی ،مولوی طارق رضا سعیدی بھی اپنے وطن سے خیرآباد آ گئے۔ مولانا فہد سعیدی پہلے ہی سے وہاں موجود تھے۔ جمعہ میں خطابت اور امامت کے فرائض مخدومنا حضرت حسن سعید صفوی نے انجام دیے اور بعد نماز جمعہ وہ وقت آیا جس کا ارباب دل کو برسوں سے انتظار تھا۔ ان کے قلوب زبان حال سے یہ کہہ رہے تھے:

اے آتش فراقت دلہا کباب کردہ
سیلاب اشتیاقت جانہا خراب کردہ

یہ کتاب اہل تصوف کے لیے دستور العمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب کے اردو ترجمے کی اشاعت کا جو کام صدیوں میں نہ ہو سکا، اس کام کے لیے اللہ رب العزت نے مرشد گرامی حضور داعی اسلام شاہ احسان اللہ مد ظلہ العالی کا انتخاب فرمایا۔ آپ نے یہ کام مولانا ضیا الرحمن علیمی کے سپرد کیا اور ان کی معاونت مخدومنا حضرت حسن سعید صفوی، مولانا غلام مصطفیٰ ازہری، مولانا ذیشان احمد مصباحی اور علما کی ایک جماعت نے فرمائی۔ مرشد گرامی حضور داعی اسلام شاہ احسان اللہ محمدی مد ظلہ العالی کی ظاہری و باطنی امداد سے شاہ صفی اکیڈمی کی ٹیم نے ۵/۶ سال مسلسل محنت کر کے اس عظیم کارنامے کو انجام دیا۔ آج اس کتاب کی رونمائی کی محفل میں مرشدنا حضور داعی اسلام شاہ احسان اللہ محمدی مد ظلہ العالی، درگاہ مخدوم شیخ سعد قدس سرہ کے صاحب سجادہ شعیب میاں، ضیاعلوی صاحب، ڈاکٹر مسعود انور علوی اور ان کے برادر زادگان، محبوب اللہ بقائی ، صمدی میاں،افضال میاں اور دیگر خانقاہوں کے صاحب سجادہ موجود تھے۔اس محفل میں ضیا میاںنے اس کتاب کے متعلق اپنی کیفیات بیان کی اور مرشد گرامی کو اس کتاب کے چھپوانے کے لیے مبارک باد پیش کی اور ان کاشکریہ ادا کیا۔ پھر مخدومنا حضرت حسن سعید صفوی دام ظلہ نے حضرت قطب عالم شیخ سعد الدین خیرآبادی قدس سرہ کی شخصیت، ان کی خدمات، ان کے مقام اور ان کی کتاب مجمع السلوک کے متعلق جامع خطاب فرمایا۔ آپ کے خطاب کے بعد مجمع السلوک شریف کی رونمائی کی رسم ادا کی گئی۔ محفل کا اختتام مشائخ کی دعاؤں پر ہوا۔
محفل رونمائی کے بعد سماع کا انعقاد ہوا جس کا آغاز عبد الحفیظ بھائی نے مرشد گرامی کی منقبت ’’مراد قلب ہر مرید مخدوم شیخ سعد‘‘ سے کیا تو محفل جذب وکیف میں ڈوب گئی۔ سب پر کیفیت طاری ہوگئی۔ شعیب میاں، ضیا علوی صاحب ، محبوب اللہ بقائی، ضیا الرحمن علیمی صاحب مصروف آہ و بکا تھے۔ مرشد گرامی پربھی گریہ طاری تھا۔ ایسا لگ رہا تھا مخدوم صاحب قدس سرہ کے فیض کا دریا جوش پر ہے اور سب اس میں ڈوب گئے ہیں۔دوران محفل عصر کا وقت ہو گیا اور سماع روک کر اذان دی گئی۔ پھر سب نے با جماعت عصر کی نماز ادا کی۔ بعد نماز عصر قل کی فاتحہ ہوئی۔ فاتحہ کا اختتام مشائخ کی دعاؤں پر ہوا۔ قل کی فاتحہ کے بعد مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز کے بعد مرشد گرامی کی اجازت اور دعاؤں کے ساتھ ہم سید سراواں شریف واپس ہوگئے۔ رات ساڑھے گیارہ بجے ۱۶؍ دسمبر ۲۰۱۶ءکو ہم خانقاہ عالیہ عارفیہ واپس لوٹ آئے۔ میں اپنے نصیب پر جتنا ناز کروں کم ہے کہ مجھ جیسے ناکارہ اور ناچیز کو اس با برکت، پر سعادت اور تاریخی سفر کا حصہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ سب میرے مرشد کا کرم ہے۔ اللہ پاک ہمارے مرشد کی عمر دراز فرمائے۔ انھیں صحت و تندرستی عطا فرمائے۔ ان کے فیض سے سارے عالم کو فیض یاب فرمائے۔ ان کے قدموں میں زندگی عطا فرمائے۔ ان کے قدموں میں موت عطا فرمائےاور ان کے قدموں میں ہی ہمارا حشر و نشر ہو۔ آمین یا رب العالمین بحرمۃ شیخنا الکریم!

مولانامحمد مدبر سعیدی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here