دنیاآخرت کی کھیتی ہے

0
96

یکم دسمبر۲۰۱۳ءبروز اتوار کلکتہ ناخدا جامع مسجد کے امام کی مسجد بیت میں مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا ایک مجلس میں جلوہ افروز تھے ،جس میں ائمۂ کرام اور عمائدین شہر بھی کا فی تعداد میں موجود تھے ـ،درمیان گفتگو اِنفاق فی سبیل اللہ کا ذکر آیا، آپ نے فرمایا کہ ڈھائی فیصد تو فرض ہے،جس کی ادائیگی نجات کے لیے ضروری ہےاور ڈھائی فیصد سے زیادہ خرچ کرنا درجات کا سبب ہے، عالم دنیا میں توانسان زیادہ سے زیادہ درجات حاصل کرناچاہتا ہے ،جو فانی ہے اور اُ س عالم کی تیاری میں سستی کرتا ہےجو باقی رہنے والاہے اور جہاں ہم کو ہمیشہ ہمیش رہنا ہے، وہاں کے لیے صرف نجات پر اِکتفا کرنے کے لیےہم تیار ہیں،ـ ڈھائی فیصد دے کر ہم نے فرض ادا کیا لیکن وَمِمَّارَزَقْنَاھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۝۳(بقرہ)پر بھی ہمارا عمل ہونا چاہیے،ـاللہ نے جوجو نعمتیںہم کو دی ہیں اُن کے ذریعے اُس کے دین کی مدد کرنا لازم ہے، مال ہے تو مال خرچ کریں، علم ہے تو علم کے ذریعے اس کے دین کی مددکریںاور اپنے وجود سے اُس کے دین کی اشاعت وتبلیغ میں ڈٹ جائیں وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ۝۱۵(حجرات)جولوگـ اپنے مالوںاوراپنی جانوں کے ذریعےاللہ کی راہ میں مجاہدہ کرتے ہیںوہی لوگ صادق ہیں۔
اللہ نے فرمایاہےکہ بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ،تو جن کے پاس مال ودولت میں سے کچھ نہیں ہےوہ لوگ واجبات وفرائض کے علاوہ عبادات نافلہ میں اللہ کی رضا کی خاطر مشغول رہیں اوراپنے آپ کو دین متین کی خدمت کے لیے وقف کردیں اورجولوگ صاحب دولت وثروت ہیں اُن کے لیے اوراد ووظائف میں مشغول رہنے سے زیادہ بہتر و افضل عمل یہ ہےکہ وہ اللہ کی راہ میں زکوۃ کے علاوہ اپنامال خرچ کرکے صادقین کے درجے تک پہنچنے کی کوشش کریں۔
ممکن ہے کہ مال ودولت سے اللہ کے دین کی مدد کرنے والے اوراد ووظائف میں مشغول لوگوںپربھی درجات کے اعتبارسےسبقت لے جا ئیں۔

خضرِراہ ، جولائی ۲۰۱۴ء

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here