انسانی تخلیق کا مقصد اللہ کی معرفت حاصل کرنا ہے

0
56
اللہ نے انسانوں کی پیدائش اپنی معرفت و پہچان کے لیے کی اور جملہ انبیا کو دنیا میں اس لیے بھیجا تاکہ لوگوں کو اس کی طرف بلائیں. حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ رب العزت سے دعا کی تھی کہ اے اللہ ہم میں ایک رسول کو مبعوث فرما جو اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرنے والا، کتاب و حکمت کا علم سکھانے والا اور دلوں کو پاک کرنے ہو. اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول کی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر امت پر احسان فرمایا اور مسلمانوں پر  بڑا احسان کیا کہ اس نے انھیں میں سے ایک رسول بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کا علم سکھاتا ہے. اللہ کی آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اللہ موجود ہے. جب انسان اللہ کے وجود کا اقرار کرتا تو پھر انھیں کتاب و حکمت کا علم سکھایا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب اس کے ذریعے اللہ کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کیا جا سکے اور اس کی منع کی ہوئی باتوں سے رکا جا سکے. جب مومن اللہ کے ارشادات و احکامات پر عمل کرنے لگتا ہے تو پھر ان کے دلوں کو دنیا و ما فیھا سے پاک و صاف فرماتا ہےجس کے نتیجے میں بندے کے دلوں میں اللہ کے سوا کچھ رہتا ہی نہیں ہے. انھیں خیالات کا اظہار مفتی محمد کتاب الدین نے کیا۔ اللہ کی وحدانیت کا دل و دماغ میں بسانا انسانی زندگی کے مقاصد کا پہلا زینہ ہے. یہ مجلس دعوت حق دہلی کی طرف سے منعقد کی گئی جس کا آغاز قاری سید سیف الاسلام نے کیا. نظامت کی ذمہ داری مولانا شاہد ازہری  نے نبھائی. مسجد خلیل اللہ کے خطیب و امام مولانا یعقوب صاحب نے ابتدائیہ کلمات میں دعوت و تبلیغ کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی. اور مجلس داعی اسلام شیخ ابو سعید احسان اللہ محمدی صفوی ادام اللہ ظل علینا کی دعا پر ختم ہوئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here