دست بوسی کرنا کیسا ہے؟

0
703

۲۶؍ستمبر۲۰۱۳ء مطابق ۲۰؍ذی قعدہ ۱۴۳۴ھ بروز جمعرات
 مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینابعدنماز عصر جب مسجدسے باہر تشریف لارہے تھے۔ جامعہ عارفیہ کے طلبا پروانوں کی طرح آپ کی طرف لپک پڑےاوردست بوسی کرنے کے لیےایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔ 
حضور داعی اسلام نے فرمایا: بچو!لائن میں آجاؤ ،ایک دوسرے کو دھکانہ دو،دوسروں کو دھکادینا ایذا رسانی کا سبب ہے اورمومن کو ایذا دینا حرام ہے،جب کہ دست بوسی مباح۔فعل مباح کے لیے فعل حرام کا ارتکاب سخت غلط ہے اوراگر کوئی چاپلوسی میں دست بوسی کرے تو دست بوسی ناجائز اوراگر دست بوسی کرانے والا اس کی وجہ سے غرور کاشکار ہوتودست بوسی کراناحرام اور اس سے بچناواجب۔آپ یہ فرماتے ہوئے آگے بڑھ رہےتھے اورطلبائے جامعہ ومعتقدین صف بستہ اپنی عقیدت کے نذرانے پیش کررہے تھے۔ 

 (خضرراہ ،جنوری ۲۰۱۴ء) 
Previous articleصدقہ نافلہ سب کے لیے جائز ہے
Next articleسالک کے درجات
اڈمن
الاحسان میڈیا اسلامی جرنلزم کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے خالص اسلامی اور معتدل نقطۂ نظر کی ترویج و اشاعت کو آسان بنایا جاتا ہے ۔ساتھ ہی اسلامی لٹریچرز اور آسان زبان میں دینی افکار و خیالات پر مشتمل ڈھیر سارے علمی و فکری رشحات کی الیکٹرانک اشاعت ہوتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here