بزرگان دین کے نقش قدم پر چلیں

1
514

اللہ کے نیک بندے اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لیے زندگی گزارتے ہیں ۔ اللہ کی بندگی کا حق اسی وقت ادا ہوتا ہے جب بندہ اللہ و رسول کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتا ہے ۔ اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم بزرگوں کے مزارات پر حاضری ضرور دیں ، ان کی بارگاہ میں پھولوں کے نذرانے بھی پیش کریں اور ان کے مزارات اقدس پرحدود شرع میں رہتے ہوئے چادر بھی چڑھائیں ، اس سب باتوں سے انکار نہیں ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اگر کسی برزرگ سے محبت کا دم بھرتے ہیں اور ان کی عقیدت کا بھرم رکھتے ہیں تو آپ پر سب سے پہلے یہ لازم ہے کہ خود کو ان کی تعلیمات سے مزین اور ان کے نقش قدم پر چلنے والا بنائیں ۔
ان خیالات کا اظہار نقیب الصوفیہ مفتی محمد کتاب الدین رضوی نے حضرت مخدوم شیخ سعد خیرآبادی کے احاطے میں منعقد دعوت حق کانفرنس میں کیا ۔ آپ نے مزید کہا کہ کمال یہ نہیں کہ آپ یہ نعرہ لگاتے رہیں کہ ہم بزرگوں سے محبت اور ان کے مزارات سے عقیدت رکھنے والے ہیں بلکہ کمال تو یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کو اس طور پر گزاریں کہ خود آپ کے اعمال یہ بتا دیں کہ آپ سلف صالحین اور اللہ کے نیک بندوں سے محبت رکھنے والے ہیں ۔
نجم الحسن عثمانی عرف شعیب میاں کی صدارت میں یہ پروگرام نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا ۔ اس پروگرام کے مہمان خصوصی کے طور پر حضرت داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی ، صاحب سجادہ خانقاہ عارفیہ ، سید سراواں شریک رہے ۔ سید ضیا میاں علوی کی نظامت اور سیادت میں یہ پروگرام بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا ۔
متعدد علما و سجادگان کے علاوہ علاقے کی کئی اہم اور بااثر شخصیات اس پروگرام میں شریک ہوئیں جن کے اسما حسب ذیل ہیں ۔ سید معین علوی ، شاکر خیرآبادی ، عزیز خیرآبادی ، سید انصار کاظمی ، نیرج شریواستو ، منوج کمار سنگھ ، امیش جائسوال ، ایچ ایم مشرا ، شمیم ٹھیکیدار ، پھول میاں ، حاجی طاہر ، امام الدین ، اشتیاق علی ، سید راغب ، سعد فاروقی ، عمران کرمانی ، نعمان صدیقی ، مولانا فہد فاروقی ، انیس احمد ، شجاع الدین رضوی ، فہیم احمد ، سید لاریب علوی ۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here