برزخِ کبری کا بیان

0
90

صورتِ احمد ﷺ اگر چہ ہے بشر 
معنی احمد(۲) ﷺ فَلاَ ھٰذَا بَشَرْ 
حضرتِ آدم اگر ہیں بو البشر
 تو محمد مصطفیﷺ فوق(۳) البشر 
خلق میں اوّل ہیں مخلوقِ خدا 
امر میں اوّل ہیں نورِ کبریا 
واجب و امکاں کے مابین اے اخی
 برزخِ کبریٰ ہیں سر تا پا نبی
 آپ ہیں وہ آئینہ سر تا بپا 
جلوہ گر ہے جس میں نورِ کبریا 
مَنْ رَاٰنِیْ (۴)سے یہ عقدہ حل ہوا 
آپ ہیں آئینۂ ذاتِ خدا 
آئینہ کیا ہے تجلیِ خدا 
جس میں متجلی ہے نورِ کبریا 
نور سے آئینہ یوں معمور ہے
گویا(۵) آئینہ ہی عینِ نور ہے
پردۂ امکاںمیں بے چون و چرا 
ذاتِ واجب آپ ہے جلوہ نما(۶)

(۱)ارباب معنی حقیقت محمدی کو خالق و مخلوق کے درمیان برزخِ کبریٰ کہتے ہیں، کیوں کہ وہی تخلیق اول اور نور اول ہے جس سے پوری کائنات کی تخلیق عمل میں آئی ہے-وہ تخلیق کا نقطہ ٔ آغاز ہے ، جس کا ایک سرا خالق سے متصل ہے تو دوسرا مخلوق سے-ع
ادھر اللہ سے واصل ادھر مخلوق میں شامل

(۲)شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں:’’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجموعہ عالم ہیں- اس لیے کہ آپ کی روح مقدس عقل اول ہے اورتمام عالم اسی سے مخلوق ہے- لہذا صرف حضوراکرم کی قابلیت تمام موجودات کی قابلیتوں کے برابرہوگی-آپ مستفیض اول اور مفیض ثانی ہیںاور ذاتی فیض قدس سب سے پہلے آپ ہی کی جانب متوجہ ہے-لہذا آپ تمام موجودات کے کل ہیں اور آپ ہی سے کل شیٔ ہے- وھوالکل-اورآپ ہی کل ہیں اورحق تبارک وتعالیٰ کل الکل-‘‘(مدارج النبوۃ:۲/۱۰۶۳،مترجم)

(۳) مشکوٰۃ المصابیح میں بخاری ومسلم کے حوالے سے ہے:اناسیدالناس یوم القیامۃیوم یقوم الناس لرب العالمین-(باب الحوض والشفاعۃ،الفصل الاول)’’ قیامت کے دن جب لوگ ربّ کائنات کے حضورحاضرہوںگے، میں سب کاسردار ہوںگا-‘‘

(۴) من رآنی فقد رایَ الحق( مسلم،کتاب الرؤیا)جس نے مجھے دیکھا اس نے حق کودیکھا-

(۵)جیسے سورج کی کرنیںآئینہ میں اس طرح اترآتی ہیں کہ آئینہ پرنظرڈالنااتناہی مشکل ہو جاتاہے جتنا سورج پرنظرکرنامشکل ہوتاہے، آئینہ خودہی سورج معلوم ہوتاہے-ذات رسالت میں اسی طرح شان خدا وندی کابتمام و کمال ظہور ہے –

(۶)یہ بزم امکاںذات واجب الوجود کے دست قدرت سے سجائی گئی ہے -یہ اسی ذات واجب کی قدرت بے پایاںکاظہورہے اوریہی حاصل توحیدہے-اس کے برخلاف تصورجیساکہ بعض فلاسفہ کاخیال ہے،کھلی گمراہی اورشرک جلی ہے-ہاں! بعض صوفیہ پرجب انوار و تجلیات ربانیہ کی بارش ہوتی ہے توممکن کاوہم وخیال ان کے پردۂ ذہن سے مٹ جاتاہے اوروہ غلبۂ حال میں پکاراٹھتے ہیں کہ بس خداہی موجودہے- اس کیف مغلوبی کا نام اصطلاح تصوف میں وحدۃ الوجود ہے-مخالفین گروہ صوفیہ اپنی کج فہمی یاتعصب کی وجہ سے اسے بنیاد بناکرصوفیہ پریہ الزام لگاتے ہیںکہ صوفیہ خلق کو حق اورممکن کوواجب کہتے ہیںحالاںکہ صوفیہ کایہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا-وہ انسان کی عبدیت اورمخلوقیت پرپورا زور صرف کرتے ہیں جواشرف المخلوقات ہے،چہ جائے کہ وہ شجر وحجرکوخداکہنے لگیں- ہر مرتبہ از وجود حکمے دارد-گرحفظ مراتب نہ کنی زندیقی
عالم امکاں میں ذات واجب کے آپ جلوہ نما ہونے کے یہ معنیٰ ہیں کہ نور الٰہی سے ہی نور محمدی کی تخلیق ہوئی اور پھر اس سے پوری کائنات ظہور پذیر ہوئی- یہ تخلیق کسی پیشگی موجود مادے سے عمل میں نہیں آئی ہے- یہ پوری کائنات ذات حق اور اس کی صفات کے کمالات و انعکاسات کا ظہور ہے،جس میں ظہور اول حقیقت محمد ی کا ہے- اس کے برخلاف اس شعر کو اس طور پر سمجھنا کہ عالم عین ذات واجب ہے یا مخلوق ہی خالق ہے جیسا کہ وحدۃ الوجود کی غلط تشریح کرنے والے سمجھتے ہیں،کھلی گمراہی و بے دینی ہے-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here