بیعت کا مقصود رب سے کیے ہوئےوعدے کو پورا کرنا ہے

0
31
خانقاہ عارفیہ میں عرس عارفی کا پہلا دن – ختم بخاری کا انعقاد
خانقاہ عارفیہ ، سید سراواں میں سلطان العارفین شاہ عارف صفی محمدی صفوی کےعرس کی تقریبات جاری ہیں ۔عرس کے پہلے دن نمازظہرکے بعد ایک مختصر سی محفل منعقد کی گئی جس میں مو لانا ضیاء الرحمن علیمی، استاذ جامعہ عارفیہ نے بیعت کےمقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرما یا کہ بیعت کا مقصد یہ ہے کہ بندہ اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرے۔ اگر بندہ کفر وشرک میں مبتلا تھا تو وہ کفر وشرک سے توبہ کرنے کے بعداس کی طرف دوبارہ نہ لوٹے ، اسی طرح اگر کوئی بندہ نیک کام انجام دیتا تھا لیکن اس سے کوتا ہی بھی ہوتی تھی اور گناہوں میں ملوث بھی ہو جا تاتھا تو ایسے بندے کو چاہیے کہ نیک کام کی بجا آوری کے ساتھ دوبارہ گنا ہوں کی طرف نہ پلٹے، اسی طرح اگر کوئی بندہ صرف فرائض کی پابندی کرتاتھا اور مستحب اعمال کی پابندی نہیں کرپاتا تھا تو اسے فرائض کے ساتھ مستحب اعمال کی پابندی کر نی چاہیے۔ ایسا کرنے والے بندوں کے لیے قرآنی ارشاد ہے کہ جن لوگوں نے اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کیا تووعدہ پورا کرنے والوں کے لیے خوشخبری ہے اور وہی لوگ بڑی کامیابی کے حق دار ہیں ۔ مولانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں اپنا اپنا  جائزہ لینا چاہیے کہ ہم نے جو بیعت کی ہے ،جو وعدہ کیا ہے ، ہم اس وعدہ کو پورا کر پارہے ہیں یا نہیں، اگر نہیں تو ہمیں وعدہ پورا کرنا چاہیے اور اگر ہم اس وعدے کو پورا کرتے ہیں تو اللہ نے ہمیں بڑی کامیابی کی بشارت دی ہے ۔
بعد عصر مولانا ذیشان احمد مصباحی ، استاذ جامعہ عارفیہ نے فریضہ دعوت وتبلیغ کے حوالے سے ایک مختصر سی گفتگو فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ دعوت وتبلیغ کے حوالے سے چند سوالات آتے ہیں کہ داعی کون ہے اور مدعو کون ہیں اور داعی کیسے دعوت دے ؟تو پوری انسانیت دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے ، ایک تو وہ لوگ ہیں جن تک دعوت حق نہیں پہنچی ہے ، جو حق سے بے بہرہ ہیں ۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جن تک حق تو پہنچ چکا ہے اور وہ دین حق کو قبول کر چکے ہیں لیکن عملی طور پر وہ کمزور ہیں ، عمل سے دور ہیں ۔ یہ دونوں طرح کے لوگ مدعو ہیں ، اب جن لوگوں تک حق پہنچ چکا ہے ان لوگوں پر یہ فرض بنتا ہے کہ وہ دعوت کے فریضہ کو انجام دیں ۔ اگر ہمارے پاس تھوڑی سی بات بھی پہنچی دوسروں تک اس کا پہنچا نا ہم پر فرض ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا:میری طرف سے ایک آیات بھی ہو اس کو آگے بڑھاؤ ۔دوسرا سوال آتا ہے کہ دعوت کیسے دی جائے؟کیونکہ اکثر یہ بات آتی ہے کہ میں نے فلاں کے پاس اپنی بات رکھی لیکن انہوں نے بات نہیں مانی، تو اس کے لیے اللہ رب العزت نے داعی کو دعوت کے طریقہ کار سے روشناس کرایا اور فرما یا کہ اپنے رب کی طرف حکمت ودانشمندی کے ذریعے دعوت دو اور نصیحت آمیز ، پیار اور محبت کی زبان میں ان سے باتیں کرو اور بحث وکرید سے پر ہیز کرو اور اگر بحث وجدال کی نوبت آئے تو ان سے اچھی طرح بحث کرو ۔ایک داعی کے لیے حسن اخلاق اور محبت کے ساتھ دعوت کا فریضہ انجام دینا قرآنی حکم ہے ۔ ہم اگر داعی  ہیں تو ہمیں دعوتی فریضہ کو سمجھنا ہو گا اور اس کے طریقہ کار کو اپنا نا ہو گا ۔
مغرب کے بعد تقریب ختم بخاری کا انعقاد ہوا ۔ جامعہ عارفیہ کے نائب پرنسپل مفتی کتاب الدین رضوی نےاصول حدیث پر مفصل گفتگو فرمائی ، ساتھ ہی کتب احادیث پر گفتگو کرتے ہوئے بخاری شریف کی اہمیت اور صاحب بخاری کے مرتبت کو اجاگر کیا ۔  صاحب زادہ داعی اسلام حسن سعید صفوی نے حدیث کی مشہور کتاب بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیا ، جس میں فارغین طلبہ کے ساتھ جامعہ کے تقریبا ۵۵۰ طلبہ بھی شریک رہے ۔ اخیر میں جامعہ کے بانی داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی نے طلبہ کےلیے اور عرس کی تقریب میں آئے ہوئے زائرین کے لیے خصوصی دعائیں کیں ، نیز ملک کی خوش حالی اور امن کی بحالی کے لیے بارگاہ الٰہی میں التجائیں کیں ۔ 
Previous articleقرآن اور تلاوت قرآن
Next articleوحی اور کشف میں فرق
اڈمن
الاحسان میڈیا اسلامی جرنلزم کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے خالص اسلامی اور معتدل نقطۂ نظر کی ترویج و اشاعت کو آسان بنایا جاتا ہے ۔ساتھ ہی اسلامی لٹریچرز اور آسان زبان میں دینی افکار و خیالات پر مشتمل ڈھیر سارے علمی و فکری رشحات کی الیکٹرانک اشاعت ہوتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here