اذکار و اشغال کا بیان

0
47

 ذکر(۱) کر ذکرِ خدا ہر روز و شب
 ذکر سے ہوتا ہے نازل فضل رب
 ذکر سے غافل نہ ہو تو اک گھڑی
 ذکر ہے مردِ خدا کی زندگی
 ذکر سے بڑھ کر نہیں کوئی بھی شیٔ
 سب سے برتر اور اعلیٰ ذکر ہے
 ہر نفس اور ہر گھڑی تو ذکر کر
 ذکر قائم ہو تو شغلِ نفی(۲) کر 
محو کر ہستی کو یوں مردِ خدا 
ما سواے حق سبھی کو بھول جا 
بھول جا دل سے تو اے مردِ خدا
 اپنی ہستی کو بھی تو اُس کے سوا 
بس خدا کے نطق سے گویا ہو تو
 اور اُسی کے نور سے بینا ہو تو 
تاکہ ہو قربِ نوافل میں گزر 
تیری گویائی ہو اُس کے نطق پر 
قرب ہے وہ جس میں فاعل ہو خدا 
بندہ کی صورت میں بے چون و چرا 
پاسِ انفاس(۳) ہے صلوٰۃِ دائمی 
برزخِ مرشد ہے نورِ ایزدی 
مصحفِ رخ کا مطالعہ کر اخی 
حاصلِ قرآن ہے تو بس یہی
 اپنی ہستی کی جو دے پہلے زکوٰۃ 
وہ کرے پابندی صوم و صلوٰۃ 
حجِ ربُّ البیت ہے مردوں(۴) کا کام 
قرب کی دولت سے ہیں جو شادکام 
شغلِ محمودہ(۵) مکمّل جو کرے 
وہ عجائب اور غرائب دیکھ لے
 نغمۂ دلکش ہے صوتِ سرمدی 
لیکن اوّل چشم و گوش و لب کو سی
 ہر نفس میں ہے پیامِ آگہی
 اس قدر طاری ہے کیفِ بے خودی 
ہوش میں آ عبدیت(۶) کو کر قبول 
گم نہ ہو جائے کہیں راہِ نزول

(۱) ذکر ، یعنی خدا کی یاد، صوفیہ کے یہاں یہ لسانی ورد و وظیفہ تک محدود نہیں ، بلکہ اکثر صوفیہ کی عبارتوں سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ یاد الٰہی میں محویت اصل ذکر ہے۔ غفلت قلب کے ساتھ لسانی اوراد در اصل ذکر ہیں ہی نہیں۔ ذکر با للسان ذکر کا آغاز ہے اور اس کی انتہاخدا کے ماسوا کو فراموش کر جانا ہے۔

(۲) شغل نفی : مراقبۂ نفی وجود

(۳) ہر سانس ہر لمحہ یاد الٰہی ، اس طرح ہر لمحہ محفوظ ہو جاتا ہے ، ایک پل بھی ضائع نہیں ہوتا۔ پاس انفاس صوفیہ کا محبوب عمل ہے جس میں جو سانس اندر جائے اللہ کاذکر ہو اور جو باہر آئے اس میں بھی اللہ کا ذکر ہو۔

(۴) اہل ا ﷲ

(۵)  شغل محمودہ وہ شغل ہے جس میں عجائب و غرائب اور اسرار کا مشاہدہ ہوتاہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ نظر کو دونوں ابرو کے درمیان جمایا جاتاہے۔

(۶) طاؤس الفقراء شیخ ابو نصر سراج علیہ الرحمۃ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ چاہیں تو فرشتوں کے جامہ میں نبی بن کر آئیں یا عبد کے جامہ میں نبی بن کے آئیں۔ حضرت جبریل نے عاجزی اختیار کرنے کا مشورہ دیا اور آپ نے جامۂ عبدیت اختیار فرما لیا۔ اس کے بعد حضرت ابو نصر سراج فرماتے ہیں : ’’ اگر خلق او ر حق تعالیٰ کے درمیان عبودیت کے درجہ سے بلند تر کوئی درجہ ہوتا تو رسول اکرم ﷺ ضرور اس پر فائز ہوتے۔‘‘( کتاب اللمع،ص:۶۹۴،حریت و عبوبیت) عبدیت کا مقام سلوک کا سب سے اونچا مقام ہے۔ یہ وہی مقام ہے جس کے بارے میں اقبال کہتے ہیں: عبد دیگر عبدہ چیزے دیگر آں سراپا منتظر ایں منتظر

Previous articleطالبانِ حق کے لیے پند و نصائح
Next articleمناجات بدرگاہِ قاضی الحاجات
اڈمن
الاحسان میڈیا اسلامی جرنلزم کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے خالص اسلامی اور معتدل نقطۂ نظر کی ترویج و اشاعت کو آسان بنایا جاتا ہے ۔ساتھ ہی اسلامی لٹریچرز اور آسان زبان میں دینی افکار و خیالات پر مشتمل ڈھیر سارے علمی و فکری رشحات کی الیکٹرانک اشاعت ہوتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here