عورتیں قرآن کی نظر میں

ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی

اللہ تعالیٰ نے عورت کی شکل میں ایک تسکین بخش ساتھی بناکر نہ صرف مردوں کے لیے جینے کی راہ ہموارکردی ہے بلکہ اُن کے درمیان محبت ورحم دلی کا جذبہ رکھ کر اِس فانی دنیا کوبھی گلزار بنادیا ہے۔جیساکہ عورتوں کی اِس حیثیت کو واضح کرنے کے لیے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ارشاد فرمایاگیاہے:
۱۔وَمِنْ آیَاتِہٖ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوا إِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّۃً وَرَحْمَۃً۝۲۱(سورۂ روم)
ترجمہ:اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اُس نے تمہاراجوڑاتمھیں میں سے پیداکیاہے تاکہ تمھیں اُس سے تسکین حاصل ہو، اور پھر تمہارے درمیان محبت ورحمت کا جذبہ بھی رکھاہے ۔

اِس آیت کریمہ میں تین اہم باتوں کی طرف اشارہ کیاگیاہے:
الف: عورت عالم انسانیت ہی کاایک حصہ ہے اوراُسے مرد کا ساتھی بناگیاہے ،اس لیے اُس کی حیثیت مرد سے کمترنہیں ہے۔
ب: عورت کامقصدمحض مرد کی خدمت نہیں ہے بلکہ وہ مردکے لیے تسکین کی باعث ہے ۔
ج:مرداورعورت میں ہر ایک کی طرف سے رحمت اور محبت کا عملی اظہار ضروری ہے، یکطرفہ محبت کافی نہیں ہے۔

۲۔وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِی عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ۝۲۲۸(سورۂ بقرہ )
ترجمہ :عورتوں کے لیے ویسے ہی حقوق ہیں جیسے اُن کے ذمے فرائض ہیں اورمردوں کواُن کے اوپرایک درجہ حاصل ہے ۔
مردکو ایک درجہ زیادہ توحاصل ہے لیکن یادرہے کہ یہ درجہ مطلق حاکمیت کانہیں ہے بلکہ ذمے داری کاہے کہ مردوں کی خلقت میں یہ صلاحیت رکھی گئی ہے کہ وہ عورتوں کی ذمے داری سنبھال سکیں اور اُن کی دیکھ بھال کرسکیں ۔

۳۔فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ أَنِّی لَا أُضِیعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْکُمْ مِنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَی۝۱۹۵(سورۂ آل عمران)
ترجمہ:اللہ نے اُن کی دعاکوقبول کرلیا کہ ہم کسی عمل کرنے والے کے عمل کوضائع نہیں کرتے،چاہے وہ مرد ہویا عورت ۔
یہاں پرعورت اورمرددونوں کے عمل کوبرابرقراردیاگیا ہے کہ دونوں کے اعمال بارگاہ ِالٰہی میں یکساں مقبول ہیں۔ایسا نہیں کہ مرد وں کے اعمال قبول ہوتے ہیں عورتوں کے نہیں ، یا عورتوں کے اعمال قبول ہوتے ہیں مردوں کے نہیں۔

۴۔وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوا وَلِلنِّسَائِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ۝۳۲(سورۂ نسا)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے جو بعض کوبعض سے زیادہ دیاہے اس سے زیادہ کی تمنا نہ کرو۔ مردوں کے لیے اتناہی حصہ ہے جتنااُنھوں نے کمایا اورعورتوں کے لیے بھی اتنا ہی حصہ ہے جو اُنھوں نے کمایا۔
یہاں بھی عورت کو مردکے برابر حیثیت دی گئی ہے ۔

۵۔وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیرًا۝۲۶( بنی اسرائیل)
ترجمہ:یہ کہو کہ یااللہ!اُن دونوں (ماں باپ )پراُسی طرح رحمت نازل فرما جس طرح اُنھوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے۔
اِس آیت کریمہ میں ماں باپ کورتبے کے اعتبارسے برابر بتایاگیا ہے،دونوں کے ساتھ خیرو احسان کا حکم دیاگیاہے اور دونوں کے حق میں دعائے خیرکی تاکید بھی کی گئی ہے ۔

۶۔یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا یَحِلُّ لَکُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَائَ کَرْہًا وَلَا تَعْضُلُوہُنَّ لِتَذْہَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَیْتُمُوہُنَّ إِلَّا أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ کَرِہْتُمُوہُنَّ فَعَسَی أَنْ تَکْرَہُوا شَیْئًا وَیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیہِ خَیْرًا کَثِیرًا۝۱۹ (سورۂ نسا)
ترجمہ:اے ایمان والو! تمہارے لیے حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کاورثہ لے لواور تم اُنھیں اس لیے روکےنہ رکھوکہ جو تم نے اُن کو دیا ہے اُس کا کچھ حصہ خود لے لو ،(سن لو)جب تک وہ  کھلم کھلا کوئی گناہ نہ کرلیں  اُن کے ساتھ مناسب برتاؤکرو،اگروہ تمھیں نا پسند ہیں تویہ بھی ممکن ہے کہ تمھیں کوئی چیزنا پسند ہو،اوراللہ نے اُسی میں زیادہ سے زیادہ بھلائی رکھی ہو۔
یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ انسان جس چیز کو ناپسند کرے اُسی میں اللہ نے برکت رکھ دی ہو ،اورجس چیز کوپسندکرے اللہ نےاُسی میں نقصان رکھ دیا ہو،اس لیے اپنی پسندوناپسند کے بجائے یہ دیکھنا ہمارے لیے زیادہ اہم ہے کہ   ہمارےکس عمل سے اللہ راضی ہے اور کس سے غضبناک۔

پھر عورتوں کے وراثتی حقوق پر غاصبانہ قبضے کی ممانعت کی گئی ہے، اُن کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے اوراُن سے دورہو نا اُسی صورت میں جائز قرار دیا گیاہے کہ جب کوئی شرعی عذر/نقص پایاجائے۔
۷۔وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء َ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَأَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِکُوہُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہُ۝۲۳۱(سورۂ بقرہ )
ترجمہ:جب تم عورتوں کو طلاق دو ،اور وہ اپنی عدت کے ایام ختم کرلیں تو اُنھیں نیکی کے ساتھ روک لو(یعنی اچھی طرح اُن کا گھر بسالو) یا بھلائی کے ساتھ الگ کردو ،اور نقصان پہنچانے کی غرض سے اُنھیں نہ روکوکہ تم اُن پرظلم وزیادتی کرو اور جو ایسا کرے گویا اُس نے اپنے ہی نفس پر ظلم کیا۔
اِس آیت کریمہ سے واضح ہوتاہے کہ عورتوں پر ظلم در حقیقت اُن پر ظلم نہیں ہے بلکہ اپنے ہی نفس پر ظلم ہے ،کیوں کہ اس ظالمانہ عمل سے عورتوں کی صرف دنیا خراب ہوتی ہے جب کہ اُس پر ظلم کرنے والے کی نہ صرف دنیا خراب ہوتی ہے بلکہ آخرت بھی بربادہوتی ہے جو دنیا سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے ۔

۸۔الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَائِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِہِمْ۝۳۴( سورۂ نسا )
ترجمہ:مرد ،عورتوں کے سرپرست ہیں اس فضلیت کے سبب جو اللہ نے اُنھیں بعض کے مقابلے میں دی ہے اوراُس مال کے سبب جن کومردوں نے اُن کے اُوپرخرچ کیا ہے ۔
اِس  آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا مقصد عورتوں پرمرد کو حاکم بنا نانہیں ہے اورنہ ہی عورت سے اُس کی آزادی چھین لینا مقصودہے، بلکہ مردکو بعض خصوصیات کی بنا پر گھر کا محافظ اور ذمے دار بناناگیاہے جس کا اصل مقصدعورتوں کی جان و مال اوراُن کی عزت و آبرو کی حفاظت ہے اوریہ مخصوص حاکمیت یا ذمے داری بھی مفت میں نہیں دی گئی ہے بلکہ اُس کے بدلے میں عورتوں کے تمام اخراجات اورمصارف بھی مردوں کے اوُپرزندگی بھر لازم و ضروری ہے۔

۹۔ہُنَّ لِبَاسٌ لَکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَہُنَّ۝۱۸۷(سورۂ بقرہ)
ترجمہ:عورتیں تمہارے لباس ہیں اورتم عورتوں کے۔
عورتوں ا ورمرد وں کاآپس میں ایک دوسرے کے لیے لباس ہونا جہاں دونوں کی برابر ی کا ثبوت ہے وہیں اِس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہےکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

۱۰۔نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَأْتُواحَرْثَکُمْ أَنّٰی شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِکُمْ وَاتَّقُوْا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْا أَنَّکُم مُّلَاقُوہُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِینَ۝۲۲۳(سورۂ بقرہ)
ترجمہ:تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، اپنی کھیتوں میں جس طرح چاہو آؤ ،اور اپنے لیے نیک اعمال آگے بھیجو ،اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو ۔
اس آیت کریمہ کو سمجھنے میں کچھ لوگ غلط فہمی کے شکار ہوجاتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں کے معاملات میں مکمل اختیاردے دیاگیاہے کہ مرد اُن کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں ،درست ہے۔لیکن اس آیت کایہ جملہ:وَقَدِّمُوْا لِأَنفُسِکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ( اپنے لیے نیک اعمال آگے بھیجواور اللہ سے ڈرو)بھی یادرکھنا چاہیے ۔

جو عورتوں کے معاملات میں مردوں کی من مانی پر بندش لگاتاہے اور کہتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ وہی سلوک رواہے جس کا حکم اللہ نے دے رکھا ہے ،ورنہ بصورت دیگر اللہ تعالیٰ کا عتاب نازل ہوگا،سورۂ اسرا،آیت:۳۲ میں ہے:
۱۱۔ وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَائَ سَبِیلًا۝۲(سورۂ بنی اسرائیل)
ترجمہ:زناکاری کے قریب بھی نہ جاؤ کہ یہ کھلی ہوئی بے حیائی ہے اوراِنتہائی بُری راہ ہے۔

۱۲۔إِنَّ الَّذِینَ یُحِبُّونَ أَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ۝۱۹(سورۂ نور)
ترجمہ:جولوگ ایمان والوں میں بے حیائی اورفحش بات پھیلانا پسند کرتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔
زناکاری ملک،معاشرہ ،اخلاق وکرداراوردین کومتأثر کرنے کے علاوہ سب سے زیادہ جس طبقہ کو نقصان پہنچاتا ہے وہ عورتوں کا طبقہ ہے،اِسی لیے دین اسلام میں نہ صرف زنا کاری جیسے جرم پر سخت روک ہے بلکہ عورتوں کی عزت نفس کی حفاظت اور باوقار زندگی جینے کا سلیقہ بھی سیکھایا ہے۔

 (ماہنامہ خضرراہ، شمارہ: دسمبر2012)

Previous articleخالق سے بندے کا رشتہ کیسے مضبوط ہو؟
Next articleملفوظاتی ادب کاعلمی واصولی مطالعہ وقت کی ضرورت
ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی
ڈاکٹر محمد جہانگیر حسن مصباحی صوبہ بہار کےضلع چمپارن سے تعلق رکھتے ہیں ۔آپ کی پیدائش ۱۹۸۰ءمیں ضلع سیتامڑھی میں ہوئی ۔آپ کی تعلیم جامعہ اشرفیہ مبارکپورضلع اعظم گڑھ سے ہوئی۔وہاں سے۱۹۹۷ءمیںفراغت کے بعد آپ نے یونیورسٹی کی دنیا میں قدم رکھا اوربی اے اور ایم اے سے فراغت کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری سے سرفراز ہوئے۔الہ آباد کے ہی ایک عظیم فکشن نگار اعظم کریوی کی ادبی خدمات پر آپ نے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ موصوف دینی وعصری دونوں علو م سے آراستہ ہیں۔ عہد طالب علمی سے ہی تحریر و قلم کا ذوق رکھتے ہیں ۔اس وقت سے اب تک مسلسل لکھ رہے ہیں۔زود نویس بھی ہیں اور خوب نویس بھی ۔ فی الحال جامعہ عارفیہ،سید سراواں، الہ آباد میں درس وتدریس کے فرائض پر مامور ہیں اور ماہنامہ ’’خضر راہ ‘‘کے ایڈیٹر ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here