اہل بیت اطہارکی زندگی اور دین کا قیام

0
31
پروگرام: پیغام امام حسین
مقام: جے۔کے محل، کریلی، الٰہ آباد
بتاریخ: ۴ محرم الحرام
خطیب: مفتی کتاب الدین رضوی (نائب پرنسپل جامعہ عارفیہ)
عنوان: واقعۂ کربلا اور دین کا قیام
 
اللہ رب العزت اپنے بندوں کو ضرور آزمائے گا، اس کا امتحان لے گا، خوش خبری ان کے لیے ہے جو صبر و شکر کا دامن تھامے رہتے ہیں اور اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑے رہتے ہیں۔
دین اسلام ایسا مکمل نظام حیات ہے جو دین و دنیا دونوں میں سرخروئی عطا کرتا ہے۔
اہل بیت اطہار نے مذہبی پاسداری کی ایسی مثالیں قائم فرمائی ہیں کہ اگر قیام عدل کے لیے جنگ کی نوبت آن پڑی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرت ہمارے لیے نمونۂ عمل ہے، فتنوں کے سد باب کے لیے حکومت دینی پڑے تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی قربانی مشعل راہ ہے اور اگر باطل کی یلغار ہو تو حق پر ثابت قدم رہنے کے لیے حضرت امام عالی مقام حسین رضی اللہ عنہ ہمارے لیے مینارۂ نور ہیں۔
قرآن تھیوری پیش کرتا ہے اور اہل بیت اس کو پریکٹیکل کر کے دکھاتے ہیں ؛ بغیر پریکٹیکل کے تھیوری پر عمل ناممکن ہے، اسی لیے کامیابی کے یہی دو راستے ہیں کہ قرآن پڑھیں اور اہل بیت کے طریقے پر مضبوطی سے جَم جائیں۔
Previous articleعوام اور خواص کے عمل میں فرق
Next articleصبر و استقامت بندگی کا حاصل ہے
اڈمن
الاحسان میڈیا اسلامی جرنلزم کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے خالص اسلامی اور معتدل نقطۂ نظر کی ترویج و اشاعت کو آسان بنایا جاتا ہے ۔ساتھ ہی اسلامی لٹریچرز اور آسان زبان میں دینی افکار و خیالات پر مشتمل ڈھیر سارے علمی و فکری رشحات کی الیکٹرانک اشاعت ہوتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here