افکار غزالی پر یک روزہ نیشنل سیمینار اور’’ الاحسان۔۳ ‘‘ اور ’’ما ہنامہ خضر راہ‘‘ کا اجرا

0
72
۱۵ ؍ مارچ ،بروز جمعرات :خانقاہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد ،میں شاہ صفی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام یک روزہ نیشنل سیمینار ’’افکار غزالی: تفہیم اور عصری معنویت ‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوا، جس میں مختلف یونیورسٹیز کے محققین اور اسکالرز نے شرکت کی۔ 
شاہ صفی میموریل ٹرسٹ کے سربراہ داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی نے اس نیشنل سیمینار کی سرپرستی کی، جب کہ صدارت کی ذمہ داری مولانا یٰسین اختر مصباحی بانی و مہتمم دارالقلم، نئی دہلی نے ادا کی ۔ شعبۂ عربی،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر سید علیم اشرف جائسی نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔ اُن کے علاوہ اردو کے معروف صحافی محترم احمد جاوید ،مولانا ضیاء ا لرحمٰن علیمی ریسرچ اسکالرجواہر لال نہرویونیورسٹی ،نئی دہلی، نوشاد عالم چشتی ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی ، مولانا رفعت رضا نوری ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی دہلی ،مولانا ارشاد عالم نعمانی ریسرچ اسکالر جامعہ ہمدرد ، مولانا ذیشان احمد مصباحی مدیر ’’جام نور‘‘ دہلی اور دیگر مقالہ نگار حضرات نے مذکورہ موضوع کے مختلف گوشوں پر اپنے وقیع مقالات پیش کئے ،جبکہ سیمینار کی نظامت مولانا عارف اقبال مصباحی نے فرمائی ۔
ڈاکٹرسید علیم اشرف جائسی نے اپنے افتتاحی کلمات میں تصوف کے حوالے سے بڑے قیمتی اور معلوماتی بیان دیتے ہوئے فرمایا :  آج جب کہ دنیا جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنے والی تمام تر سہولیات کی دریافت کے با وجود روحانی سکون کے لیے تڑپ رہی ہے ، ایسے میں صوفیا کی ذمے داری ہے کہ وہ روحانی سکون کے متلاشیان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تصوف حقیقی کو عام کرنے کی کوشش کریں ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امام غزالی کے افکار و نظریات کی معنویت جس قدر اُن کے عہد میں تھی ،اسی طرح یا اُس سے بڑھ کر آج کے دور میں ہے ۔لہٰذا آج کے دور میں تصوف پر کام کرنے والوں کے لیے ان کے افکار و نظریات کو اپنانا نہایت نا گزیر ہے ۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تصوف کو جملہ آلائشوں سے پاک کر کے لوگوں تک پہونچایا جائے تا کہ روحانیت کے پیاسوں کی سیرابی کا سامان ہو سکے ۔
مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی نے امام غزالی کے حوالے سے فقہ و اجتہاد کے موضوع پر اپنے مقالے کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ:  کسی بھی مفتی اور مجتہد کے لیے قرآن و سنت اور اجماع کا علم بے حد ضروری ہے، اس کے بغیر کوئی بھی شخص مفتی نہیں ہو سکتا ، اسی طرح مفتی اور عالم کو یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ وہ کیا کیا نہیں جانتا اور ا س کو اپنے علم و جہل کا تمیز بھی ہو ۔مولانا ذیشان احمد مصباحی نے کہاکہ: آج اگر مسئلہ تکفیر پر امام غزالی کی کتاب ’’التفرقہ بین الاسلام والزندقہ‘‘کا غیر متعصبانہ مطالعہ دور حاضر کی ہماری بہت سی الجھنوں کا صحیح حل ہے ۔
 اردو کے معروف صحافی محترم احمدجاوید نے اپنے تبصراتی خطاب میں کہا کہ: تصوف وقت کی اہم ضرورت ہے اورایسے میں امام غزالی علیہ الرحمہ کی تعلیمات کو عوام کے درمیان لانے کی اہمیت مزیددوبالاہوجاتی ہے تاکہ ان کی تعلیمات کی روشنی میں تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کا عمل بہتر طور پر کیا جا سکے ۔ ’’خانقاہ عارفیہ‘‘ نے تصوف کی ترویج و اشاعت کا جویہ مستحسن قدم اٹھایا ہے وہ لائق ستائش ہے ۔
سیمینار کے صدر مولانا یٰسین اختر مصباحی نے کہا کہ: عصر حاضر میں امام غزالی کے افکار کی ترویج و اشاعت کی اشدضرورت ہے، اس خصوص میں اس طرح کے قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں کا انعقاد ازحد معاون و مددگار ہے ۔اس موقع پر شاہ صفی اکیڈمی؍ جامعہ عارفیہ کے زیر اہتمام شائع ہونے والاسالنامہ ،تصوف پر دعوتی اور تحقیقی رسا لہ کتابی سلسلہ ’’الاحسان‘‘الہ آباد کے تیسرے شمارے اور ماہنامہ’’ خضر راہ‘‘نئی دہلی کی علما اور دانشوروں کے ہاتھوں رونمائی کا پروگرام بھی عمل میں آیا ۔اخیر میں صلاۃ و سلام اور داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی مد ظلہ العالی کی دعا پر سیمینار کا اختتام ہوا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here