آدابِ شیخ کامل

0
27

 گوشِ دل سے سن تو قولِ بو سعیدؔ 
شیخ ہے اِس راہ کی اوّل کلید 
یاد رکھ اس بات کو اے جانِ من
 شیخ ہے داناے علمِ من لدن 
شیخ سے گمراہ کرے جو آدمی
 در حقیقت وہ ہے شیطانِ غوی 
بارگاہِ مرشدی کو میری جان
 ہر کمی اور نقص سے تو پاک جان 
یہ ہے وادیِ مقدس اوّلیں 
شرط ہے اس میں ارادت با لیقیں 
بے ارادت شیخِ کامل سے کوئی
 فیض پاسکتا نہیں ہر گز کبھی 
بشنو اے غافل تو قولِ حق پرست 
شیخ من خس، اعتقادِ من بس ست(۱)
 شیخِ کامل کی توجہ کے بغیر 
سالکانِ حق کی نا ممکن ہے سیر 
شیخ ہے اپنے مریدوں میں یونہی 
جس طرح سے اپنی امت میں نبی (۲)
 در حقیقت وہ ہے مقبولِ خدا 
جو دل و جاں سے ہو بندہ(۳) شیخ کا 
شیخ کی صورت ہے ایسا آئینہ 
جلوہ گر جس میں خدا و مصطفی 
شیخ کی صحبت میں اک لمحہ سعیدؔ 
جو بھی بیٹھے وہ ہو مثلِ بایزید
 اے گرفتارِ مجاز اے بے حیا 
چھوڑ کر بغض و حسد، کبر و ریا 
جا کسی درویش کامل کے حضور 
خاک پہ رکھ دے جبینِ پُر غرور 
پوچھ پھر اُس مردِ دانا سے یہ راز 
کس طرح ہوتی ہے مستوں کی نماز 
جس میں غیر اﷲ کا خطرہ نہیں 
جس میں اپنی ہستی کا پردہ نہیں 
جس میں فاعل ہے تجلیِ خدا 
بندہ کی صورت میں بے چون و چرا 
جس میں بندہ آپ فانی ہوتا ہے
 خود خداے پاک باقی ہوتا ہے(۴)


(۱) ’’میراشیخ معمولی تنکا ہے مگرمیرااعتقادمیرے لیے کافی ہے‘‘۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اصل چیز شیخ سے مخلصانہ ارادت ہے۔ اس کے بغیرطالب کوکوئی فیض نہیں مل سکتا۔ اس بات کو پلٹ کر بھی کہا جا سکتا ہے ’’ شیخ من بس و اعتقاد من خس است‘‘یعنی میرے اعتقاد کی کیا حیثیت اصل چیز تو شیخ کے فیوض و برکات کا سمندر ہے، اعتقاد سے جو کچھ ملتا ہے اسی سمندر کے چند قطرات ہوتے ہیں۔

(۲) الشیخ فی قومہ کالنبی فی امتہ’’شیخ اپنی قوم میں ایسے ہی ہوتا ہے جیسے نبی اپنی امت میں ہوتا ہے۔‘‘ امام احمد رضا محدث بریلوی لکھتے ہیں: ’’ دوسری حدیث الشیخ فی قومہ کا لنبی فی امتہ جسے ابن حبان نے کتاب الضعفاء اور دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت ابو رافع سے روایت کیا کہ رسول اﷲ ﷺ نے ایسا فرمایا، اگرچہ امام ابن حجر عسقلانی اور ان سے پہلے ابن تیمیہ نے موضوع اور امام سخاوی نے باطل کہامگر صنیع امام جلیل جلال سیوطی سے ظاہر ہے کہ وہ صرف ضعیف ہے ، باطل و موضوع نہیں۔ ‘‘(فتاویٰ رضویہ: ۲۱/۴۸۳،۴۸۲،پوربندر،گجرات) اس حدیث کی صحت و ضعف سے قطع نظر یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ مشائخ کاملین وارثین نبوت ہوتے ہیں۔ وہ اتباع رسول کے توسط سے اپنے اخلاق و کردار سے کار نبوت انجام دیتے ہیں،کیوں کہ اب سلسلۂ نبوت منقطع ہوچکا ہے، اس لیے دعوت و اصلاح جو پیغمبرانہ عمل ہے، کو اس امت کے علما اور صلحا ہی نبی کی نیابت میں انجام دیں گے۔ اورفَاسْأَلُواْ أَہْلَ الذِّکْرِ إِن کُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ’’اصحاب ذکر سے دریافت کرو اگر تمہیں علم نہیں ہے۔‘‘ (الانبیاء : ۷) کے تحت عوام مسلمین کے لیے ان سے سوال کرنا اور أَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُمْ ’’اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور اپنے امیر کی اطاعت کرو‘‘(النساء: ۵۹)کے تحت عوام کا ان کی پیروی کرنا واجب ہے۔

(۳)  مشائخ روحانی امورمیں اولوالامرکادرجہ رکھتے ہیں اوراولوالامر کی پیروی کرنے کاحکم واضح طور پرقرآن میں موجودہے۔ أَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُم (النساء:۵۹)اس شعر میں لفظ بندہ عابد کے معنی میں نہیں ، مطیع و فرماں بردار کے معنی میں ہے۔

(۴) حدیث قرب نوافل جسے امام بخاری نے کتاب الرقاق میں نقل کیا ہے ، کی روشنی میں اس مسئلے کو سمجھا جاسکتا ہے۔ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ فناوبقاکی توضیح میں لکھتے ہیں:’’فنااوربقاکے بارے میں مشائخ کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ کچھ حضرات نے یہ بیان کیاہے کہ خداکی مخالفت کوفناکیاجائے اوراس کی موافقت کوباقی رکھا جائے۔ یہی بات توبہ نصوح میں پائی جاتی ہے اوراس کی بھی یہی خصوصیت ہے۔ بعض حضرات نے اس کایہ مفہوم بیان کیاہے کہ دنیاکی رغبت،حرص اورامیدجاتی رہے۔ بعینہ یہی خصوصیت زہدمیں بھی موجودہے۔ بعض مشائخ کی رائے ہے کہ فنااوربقا کامطلب یہ ہے کہ برے اوصاف کوفناکیاجائے اوراچھے اوصاف کوباقی رکھا جائے۔ اس کا دوسرا نام تزکیہ نفس ہے…مگردراصل فنائے مطلق وہ ہے جوخداکے حکم سے بندہ حق پر مسلط ہوجائے۔ یعنی خداکاوجود بندے کے وجودپرغالب آجائے۔‘‘ (عوارف المعارف،باب ۶۱ص:۵۲۰،مترجم)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here