کیا امام حسین کا سر مبارک قاہرہ میں مدفون ہے؟

0
217

تحریر: مفتی علی جمعہ (سابق مفتی اعظم مصر)
ترجمہ: شاہد رضا نجمی

سوال: کیا امام حسین کا سر مبارک قاہرہ ، مصر میں مدفون ہے؟
جواب: اولا یہ جان لیں کہ امام حسین کے سر مبارک کا قاہرہ، مصر میں مدفون ہونا ایک تاریخی معاملہ ہے۔شرعی معاملہ نہیں ہے کہ لوگوں پر اس کا اعتقاد رکھنا واجب وضروری ہوجائے۔ اس کے تسلیم وانکار پر ایمان وکفر کا مدار نہیں ہے۔ اس کو یوں سمجھیں کہ اگر کوئی شخص کہے کہ ’’اہرامات‘‘ مصر میں نہیں ہیں، بلکہ کسی دوسرے ملک میں ہیں، تو کیا اس کی تکفیر کی جائے گی؟ ہرگز نہیں۔ وہ تو محض حقیقت سے ناواقف وناآشنا کہلائے گا۔
مؤرخین اور سیرت کی کتابوں کا اس پر اتفاق ہے کہ امام حسین کا جسد اطہر کربلا شریف میں مدفون ہے۔ سر مبارک کو اولا مختلف مقامات پر لے جایا گیا، پھر شہر عسقلان (فلسطین) میں محفوظ رکھا گیا۔ اخیر میں مصر منتقل کردیا گیا۔ مؤرخین کی ایک بڑی جماعت کا یہی موقف ہے۔ جن میں ابن میسر، قلقشندی، علی بن ابوبکر المعروف سائح ہروی، ابن ایاس، شیخ یوسف بن عبداللہ ، المعروف سبط جوزی(م:۶۵۴ھ) اور حافظ شمس الدین سخاوی (م:۹۰۳ھ) بھی ہیں۔
مؤرخ مقریزی لکھتے ہیں:
بروز یک شنبہ ۸؍جمادی الآخر ۵۴۸ھ /۳۱؍ اگست ۱۱۵۳ء میں امام حسین کا سر مبارک عسقلان سے قاہرہ منتقل کیا گیا۔ اور یہ منتقلی عسقلان کے والی امیر سیف الممکۃ تمیم کے زیر نگرانی ہوئی۔ ۱۳؍ جمادی الآخر ۵۴۸ھ/ ۲؍ ستمبر ۱۱۵۳ء کو امیر سیف المملکۃ سر مبارک لے کر اپنے محل حاضر ہوئے۔ پھر استاذ مکنون بذریعۂ کشتی باغ ’’کافوری‘‘ لے کر آئے۔ جس کے بعد سرنگ کے راستے سےاسے’’قصر زمرد‘‘ تک لے جایا گیا اور پھر ’’دہلیز خدمت‘‘ نامی مقبرے کے دروازے پر ’’دیلم‘‘ (قاہرہ قدیمہ کا ایک علاقہ) کے گنبد میں سر مبارک کو دفن کردیا گیا۔ شیخ طلائع نے (دولت فاطمیہ کا ایک زیرک وفقیہ وزیر) ’’درب احمر‘‘ کے نزدیک ’’باب زویلہ‘‘ کے باہر سر مبارک سے منسوب ایک مسجد تعمیر کی، جو ’’جامع الصالح طلائع‘‘ کے نام سے معروف ہوئی۔(اور اب ’’مسجد امام حسین‘‘ کے نام سے مشہور ہے) اسی مسجد میں لکڑی کے تختوں پر سر مبارک کو غسل دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ سرمبارک اب بھی اسی مسجد میں موجود ہے۔ (تاریخ المقریزی، ۲؍۱۷۱)
آثار قدیمہ کے محققین بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔ معروف محققہ سیدہ عطیات شطوی کہتی ہیں کہ امام حسین کا سر مبارک ۸؍ جمادی الآخر ۵۴۸ھ ؍۳۱؍ اگست ۱۱۵۳ء، بروز یک شنبہ امیر سیف المملکۃ تمیم کی نگرانی میں عسقلان سے قاہرہ منتقل کیا گیا اور امیر سیف المملکۃ ۱۳؍ جمادی الآخر ۵۴۸ھ ؍۲؍ستمبر ۱۱۵۳ء کو اپنے محل لے کر حاضر ہوئے۔ جیسا کہ مؤرخ مقریزی کا موقف ہے۔
محققین نے لندن میں واقع برطانوی میوزیم سے ابن اورق (م:۵۷۲ھ) کی کتاب ’’تاریخ آمد‘‘ کے ایک قلمی مخطوطے کی بازیافت کی ہے۔یہ مخطوطہ ۵۶۰ھ کا ہے اور برطانوی میوزیم میں’’ نمبر :۵۸۰۳ شرقیات ‘‘کے تحت محفوظ ہے۔ ابن اورق نے اس مخطوطے میں مستند دلائل کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ امام حسین کا سر مبارک ۵۴۹ھ میں مصر منتقل کیا گیا۔ یہ زمانہ خود ابن اورق کا تھا اور سرمبارک کا استقبال کرنے والی جماعت میں ابن اورق بذات خود شریک تھے۔
سابق شیخ ازہر علامہ شبراوی نے ’’الاتحاف‘‘ نامی ایک کتاب تالیف کی ہے، جس میں انھوں نے دلائل کے ذریعے سرمبارک کا قاہرہ میں موجود ہونا ثابت کیا ہے اور اپنی ہم نوائی میں کثیر ائمہ کے اقوال بھی ذکر کیے ہیں، جن میں امام محدث منذری، حافظ ابن دحیہ، حافظ نجم الدین غیطی، امام مجد الدین بن عثمان، امام محمد بن بشیر، قاضی محی الدین ابن عبد الظاہر، قاضی عبدالرحیم ، عبداللہ رفاعی مخزومی، ابن نحوی، شیخ قرشی، شیخ شبلنجی، شیخ حسن عدوی، شیخ عبدالوہاب شعرانی (م:۹۷۳ھ)، امام عبدالرؤف مناوی (م:۱۰۳۱ھ)، شیخ اجھوری، ابوالمواہب تونسی وغیرہ کے اسما نمایاں ہیں۔
فضیلۃ الشیخ محمد زکی الدین ابراہیم نے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے، جس کا نام ’’رأس الامام الحسین بمشھدہ بالقاھرۃ تحقیقا مؤکدا حاسما‘‘ ہے۔ یہ رسالہ دلائل وبراہین سے بھر پور ہے، جسے پڑھنے کے بعد اطمینان قلبی ضرور حاصل ہوجاتا ہے۔
اس مختصر وضاحت سے جمہور مؤرخین کے اختیار کردہ موقف پردل مطمئن ہوجاتا ہے کہ امام حسین کا سر مبارک قاہرہ میں ہی موجود ہے اور پورا قاہرہ اس کے انواروتجلیات سے روشن ومنور ہے۔ والحمد للہ رب العالمین۔
واللہ تعالیٰ اعلیٰ واعلم۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here