جشن یوم غزالی کے موقع پر شیخ عبد القادر جیلانی اور خواجہ نظام الدین اولیا کا عرس

0
49
جامعہ عارفیہ کے لیے ایک نئے ہاسٹل کا سنگ بنیاد ،شاہ صفی اکیڈمی کی تین نئی کتابوں کا رسم اجرا
 پریس ریلیز؍سید سراواں،کوشامبی
 داعی اور مبلغ کو چاہیے کہ وہ نرم روی اختیار کریں اور لوگوں تک بہتر انداز میں دین پہنچانے کی کوشش کریں ۔جب تک ہماری زبان اور ہمارے اعمال اس قابل نہیں ہو جاتے کہ اس سے لوگوں کو سلامتی پہنچے ہم دین کے صحیح داعی نہیں بن سکتے ۔ ان خیالات کا اظہارغزالی ڈے کے چیف گیسٹ جناب پروفیسرمعین الدین جینابڑے صاحب (جواہر لال نہرو یونیورسٹی)نے کیا ۔موصوف یہاں طلبۂ جامعہ عارفیہ کی تنظیم ’’جمعیۃ الطلبہ‘‘ کے سالانہ پروگرام جشن یوم غزالی میں شرکت کے لیے تشریف لائے تھے ۔اسی نشست میں غزالی ڈے مسابقہ میں کامیاب طلبہ کو داعی اسلام کے ہاتھوں انعامات سے بھی سرفرا ز کیا گیا ۔ اس خاص موقع پر جامعہ عارفیہ کے استاذ مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی کو ان کی علمی و تحقیقی خدمات پر جمعیت کی جانب سے ـ’’العارف‘‘ ایوارڈ پیش کیا گیا ۔
 پروگرام کی دوسری نشست بعد نماز عشا شروع ہوئی ۔نظامت مولانا مجیب الرحمٰن علیمی نے کی ۔تلاوت کلام پاک کے بعد مولانا مقصود احمد سعیدی ، استاذ جامعہ عارفیہ نے داعی اور دعوت کے شرائط و اسلوب کے حوالے سے جامع خطاب کیا ۔ آپ نے فرمایا کہ داعی کو حکمت و موعظت اور احسن اسلوب کا ہر جگہ لحاظ کرنا ضروری ہے ، اس کے بغیر کوئی بھی شخص کامیاب داعی نہیں بن سکتا۔بعدہٗ جامعہ کے ایک طالب علم مولوی اویس رضا گجراتی نے نعتیہ کلام پیش کیے ۔ اس کے بعد نقیب الصوفیہ مفتی کتاب الدین رضوی نے تفصیلی خطاب فرمایا۔ آپ نے اپنی گفتگو میں تزکیۂ نفس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایاکہ ہمیں اپنے وجود میں شریعت کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمیں کثرت سے مشائخ کرام کی صحبت حاصل کرنی ہوگی ۔ اس کے بغیر نہ تو ہمارا تزکیۂ نفس ہو سکتا ہے اور نہ ہی شریعت کو ہم اپنے وجود اور اپنے معاشرے میں نافذکر سکتے ہیں ۔ 
 اس سال خانقاہ عارفیہ کی قائم کردہ شاہ صفی اکیڈمی سے تین فخریہ پیش کش’’ مجمع السلوک ، الاحسان اردو شمارہ(۷) اور خیرآباد کا پانچ سو سالہ سفر‘‘کی رونمائی علما و مشایخ کے ہاتھوں عمل میں آئی ۔ اخیر میں اس محفل کا اختتام صلاۃ و سلام اور حضور داعی اسلام کی دعاء پر ہوا ۔ 
 فجر تک سماع کی محفل سجی رہی ،جس میں خانقاہ کے قوالوں نے اردو ، ہندی و فارسی زبانوں میں صوفیانہ کلام پیش کر کے مریدین و سالکین و طالبین کے قلوب کو مسرور کیا ۔نماز فجر سے پہلے قل کی محفل ہوئی اور نمازکے بعد لنگر عام کا اہتمام ہوا ۔ اس موقع جامعہ عارفیہ کے لیے ایک نئے ہاسٹل کی بنیاد بھی رکھی گئی۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here